Concept of Life

March 10th, 2010

انسانی زندگی کے دو تصوّر

انسانی زندگی کے دو تصوّر ہیں ۔ ایک مادی تصوّر حیات ( Materialistic Concept of Life ) اور دوسرا قرآنی تصوّر ِ حیات ۔

مادی تصوّر حیات ( Materialistic Concept of Life ) ، اس کی رُو سے یہ مانا جاتا ہے کہ انسان عبارت ہے اس کے طبیعی جسم ( Physical Body ) سے جو طبیعی قوانین کے مطابق وجود میں آتا ہے اور انہی قوانین کے مطابق سرگرمِ عمل رہتا ہے اور انہی کے مطابق آخرالامر ختم ہو جاتا ہے انسانی جسم کے انتشار ( Disintegration ) سے انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ ظاہر ہے اس تصوّر حیات کی رُو سے انسان کو خدا کے ماننے کی ضرورت نہیں پڑتی نہ ہی کسی خارجی رہنمائی کی ۔ انـفرادی طور پر جسم کی پرورش طبعی قوانین کے مطابق ہوتی ہے، جو شخص ان قوانین کا اتباع کرتا ہے اس کی صحت اور توانائی اچھی رہتی ہے جو ان کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ بیمار اور کمزور ہو جاتا ہے ۔ ان امراض کا ازالہ بھی قوانینِ طبیعی کی رُو سے کیا جا سکتا ہے ، جب اس کے قویٰ مضمل ہو جاتے ہیں یا کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو اسے موت آجاتی ہے اور معاملہ ختم ہو جا تا ہے ۔ اجتماعی زندگی کے لئے عقل اور تجربے کی روشنی میں قواعد و ضوابط مرتب کئے جا سکتے ہیں جن کے مطابق قوم کی پرورش ہوتی رہے۔ اسے قرآن انسان کی حیوانی سطح ( Animal Life ) کی زندگی قرار دیتا ہے۔ ( جو لوگ زندگی کی بلند حقیقت سے انکار کرتے ہیں وہ حیوانوں کی طرح متاحِ حیات سے فائدہ اٹھاتے اور کھاتے پیتے ہیں۔ 12/ 47 )

قرآنی تصوّر ِ حیات ، جس کی رُو سے مانا جاتا ہے کہ انسان صرف طبیعی جسم سے عبارت نہیں۔ جسم کے علاوہ ایک اور چیز ہے جسے قرآن انسانی ذات ( Personality) یعنی نـفس کہہ کر پکارتا ہے۔ خدا نے انسانی تخلیق کے سلسلے کی ابتدا بے جان مادّے سے کی، پھر اسے مختلف ارتقائی منازل سے گزارتے ہوئے اس مقام میں لے آیا جہاں اس کی نسل کی افزائش بسلسلہ8 تولید ہونی تھی۔ یہاں تک انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ پھر اس میں سے حشووزوائد کو الگ کر کے اس میں خاص اعتدال و تناسب پیدا کیا۔ اور اس میں اپنی توانائی کا ایک شمہ ڈال دیا ( یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خدا نے اپنی ذات میں سے ایک حصّہ انسان کو دے دیا ۔ ذات ( Personality ) ایک نا قابلِ تقسیم وحدت ( Indivisible Whole ) ہوتی ہے جو حصّوں میں تقسیم نہیں ہو سکتی ، خدا کی ذات اپنی جگہ مکمل ہے اور انسانی ذات جو اگرچہ خدا کی ودیعت کردہ ہے اپنے مقام پر مستقل حیثیت رکھتی ہے۔) اور سماعت و بصارت اور قلب عطا کر کے اس قابل بنایا کہ مختلف علوم حاصل کر سکے۔ یہ امتیازی خصوصیت وہ ہے جسے قرآن نے ” رُوح خداوندی” یا الوہیاتی توانائی ( Divine Energy ) جسے قرآن انسانی ذات یا نـفس کہہ کر پکارتا ہے سے تعبیر کیا۔ یاد رہے قرآن میں روح کا لفظ مادہ ( Matter ) کے مقابلہ میں استعمال کے معنی میں نہیں آیا ، یعنی یہ Spirit یا Soul کے معنوں میں نہیں آیا۔ سماعت و بصارت ( Senses ) اور قلب ( Mind ) وہ ذرائع ہیں جو انسانی ذات کو معلومات بہم پہنچاتے ہیں اور ان میں تمیز و تفریق پیدا کرتے ہیں ، یہ ذات ہی ہے جو اس علم کی روشنی میں اپنے اختیار و ارادہ سے معاملات کے فیصلے کرتی ہے اور اپنے جسم اور اس کی قوتوں کو اپنے فیصلوں کو بروئے کار لانے کا ذریعہ بناتی ہے۔

انسانی زندگی کا یہ تصّور کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں بلکہ اس میں جسم کے علاوہ ایک اور شے بھی ہے جسے اس کی ذات کہتے ہیں وہ بنیاد ہے جس پر دین کی ساری عمارت کھڑی ہے اگر اسے مان لیا جائے تو دین کی بات آگے چلتی ہے اگر اسے تسلیم نہ کیا جائے تو دین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


Comments RSS

Leave a Reply

Name (required)

Email (required)

Website

Speak your mind