Creation of man

November 6th, 2008

عورت اور مرد کی تخلیق

آج کی عورت اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہے۔ اس کا تصّور یہ ہے کہ وہ کسی میدان میں مرد سے پیچھے نہیں ، مرد کے تابع نہیں ۔ لیکن اس کے باوجود اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مرد کی نگاہوں میں وجًہ جاذبیت (Attractive) بن کر رہے ۔ اس کا تمام سامانِ زیبائش و آرائش، اس کے فروغِ حسن اور نمائشِ جسم کے متنوع طرق و اسالیب۔ اسکا اندازِ گفتار۔ اس کی طرز رفتار۔ اس کے لباس کی تراش خراش۔ غرضیکہ اس کی ہر نقل و حرکت اور وضع قطع کے پیچھے یہ جذبہ کار فرما ہوتا ہے کہ وہ مرد کی نگاہوں میں زیادہ سے زیادہ جاذب ہو سکے۔ یعنی مرد سے سرکش اور آزاد ہونے کے باوجود، عورت کے قلب کی گہرائیوں میں یہ عقیدہ ابھی تک جاگزیں ہے کہ وہ مرد کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ تو اگر یوں کہا جائے کہ زمانہ جہالت کی عورت، عصرِ تہزیب کی دُختر سے زیادہ سمجھدار تھی تو غلط نہ ہو گا۔ وہ مرد کی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ بنتی تھی تو کم از کم کمانے کی مشقت سے تو فارغ تھی۔ یہ خود کماتی ہے اور اپنی کمائی کا بیشتر حصّہ مرد کا کھلونہ بننے میں صرف کر دیتی ہے۔ یہ پوری کوشش کرتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح مرد کے دامِ نگاہ میں گرفتار رہے، اور اس کے باوجود ، اپنے آپ کر اس فریب میں رکھتی ہے کہ میں مرد کے چنگل سے آزاد ہوں ۔ یہ سب غیر شعوری طور پر اُسی نظریہ اور عقیدہ کا اثر ہے جو ہزارہا سال سے عورت کے رگ و پے میں سرایت کئے چلا آرہا ہے ، کہ عورت کا درجہ، مرد کے مقابلہ میں نہایت پست ہے ۔ یہ تمام مصیبتوں کا سر چشمہ اور گناہوں کا منبع ہے ۔ یہ ناقص العقل ہے اسے ہمیشہ مرد کے تابع فرمان رہنا چاہیئے۔ یعنی مقصودبالذّات تو مرد کی پیدائش تھی۔ عورت کو محض مرد کی دلجوئی کے لئے بطور کھلونا پیدا کر دیا۔


Trackback URI | Comments are closed.