Personality – Self – نفس یعنی ذات اور اسماٴ الحسنیٰ
قرآن میں ہے کہ ” اور اس طرح تمہیں سماعت و بصارت اور قلب عطا کر کے اس قابل بنایا کہ تم مختلف علوم حاصل کر سکو ، لیکن تم میں سے بہت تھوڑے ہیں جو ان قوّتوں اور صلاحیتوں کا صیحح استعمال کرتے ہیں” ( 32 \ 9-7 )۔
قرآن بتاتا ہے کہ انسان کی تخلیق بے جان مادے سے کی اور مختلف ارتقائی منازل سے گزار کر اس مقام پر لے آیا جہاں اس کی نسل کی افزائش بسلسلہٴ تولید ہونی تھی اس سلسلہ ارتقاء ( Organic Evolution ) کی سابقہ کڑیوں میں انسان دیگر حیوانات کی سطح پر تھا۔ اس مقام پر اﷲ تعالیٰ نے اس میں حشووزوائد کو الگ کر کے اس میں خاص اعتدال و تناسب پیدا کیا ، اور اس میں اپنی توانائی { جسے قرآن ” رُوح خداوندی ” یا ” الوہیاتی توانائی ” ( Divine Energy ) کہتا ہے } کا ایک شمہ ڈال دیا۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی ذات میں سے ایک حصّہ انسان کو دے دیا ۔ ذات ( Personality ) ایک ناقابلِ تقسیم وحدت ( Indivisible whole ) ہوتی ہے جو حصّوں میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اﷲ کی ذات اپنی جگہ مکمل ہے اور انسانی ذات جو اگرچہ اﷲ کی ہی ودیعت کردہ ہے اپنے مقام پر مستقل حیثیت رکھتی ہے۔
انسان صرف جسم کا نام نہیں بلکہ اس میں ایک اور شے بھی ہے جسے ذات کہتے ہیں یہ بنیاد ہے جس پر دین کی ساری عمارت استوار ہوتی ہے ، اسے مان کر ہی دین کی بات آگے چلتی ہے .
ذات جس جگہ بھی ہو اس کے بنیادی خصائص ( Basic Characteristics ) ایک ہی ہوں گے لہٰذا انسانی ذات اور اﷲ کی ذات کے صفات ایک ہی ہیں لیکن اس اہم فرق کے ساتھ کہ چونکہ اﷲ کی ذات مکمل ترین ، بلند ترین اور لا محدود ہے اس لئے اس کی صفات بھی مکمل ترین ، بلند ترین اور لا محدود ہیں اس کے مقابلے میں انسانی ذات میں یہ صفات حدود بشری کے اندر سمٹی ہوئی ہیں۔
ذات انسان کو بنی بنائی یا نشوونما یافتہ ( Developed Form ) نہیں ملتی یہ اسے خوابیدہ ( Realisable possibilities , Latent , Potent , Dormant ) شکل میں ملتی ہے، اور اس کا مشہود (Manifest , Actualise ) کرنا انسانی زندگی کا مقصد ہے ۔ اس کو ذات کی نشو ونما کہتے ہیں۔
غیر تربیت یافتہ ذات کے لئے ضروری ہے کہ کوئی نشوونما یافتہ ذات بطورِ خارجی معیار اس کے سامنے رہے تاکہ وہ جان سکے کہ اس کی ذات کی نشوونما ہو رہی یانہیں اور اگر ہو رہی ہے تو کس حد تک ۔
اور اس کائنات میں ذات اﷲ کی ہے یا اس سے نیچے اتر کر انسان کی۔ اﷲ کی ذات مکمل ترین ، بلند ترین اور کامل نشوونما یافتہ ہے سو یہی اﷲ کی ذات انسانی ذات کے لئے خارجی معیار بن سکتی ہے اس کے ساتھ یاد رہے اﷲ کی ذات ، انسانی ذات کی طرح رفتہ رفتہ نشوونما پا کر مکمل نہیں ہوئی بلکہ وہ فی ذاتہ مکمل اور نشوونما یافتہ تھی اور ہے۔
قرآن میں صفاتِ خداوندی تفصیل وضاحت اور حسن وخوبی سے بتائی گئی ہیں کہ انسان کے لئے ان کا معیار بننا کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رکھتا۔ ان صفاتِ خداوندی یعنی اسماٴ الحسنیٰ کو اپنے سامنے بطور معیار رکھنا اور اپنی ذات میں ان کی نمود کو زندگی کا نصب العین بنا لینا ایمان باﷲ یعنی خدا پر ایمان لانا کہلاتا ہے۔
قرآن وہ ضابطہ بھی دیتا ہے جس کے مطابق زندگی بسر کرنے سے انسان کی ذات کی ان مضمر اور خوابیدہ صفات کی نمود ہوتی ہے۔ اسی ضابطہ یا نظام کو ” الدین ” کہتے ہیں۔ دین اس عملی ضابطہ ٴ یا نظامِ حیات کا نام ہے جس کے مطابق معاشرہ کی تشکیل کرنے سے انسانی ذات کی نشوونما ہوتی ہے ۔ اور اس نظام کے قوانین کا مجموعہ قرآن ہے۔
قرآن کے بتائے ہوئے ضابطہ یا نظام کی رو سے انسانی ذات کی نشوونما معاشرہ کے اندر رہتے ہوئے ہو سکتی ہے، تجردّ گاہوں یا خلوت کدوں میں نہیں۔
انسان کے ہر کام ، آرزو ، ارادہ اور دل میں گزرنے والے خیالات کا اثر اس کی ذات پر مرتب ہوتا ہے اور اسے قانونِ مکافاتِ عمل کہتے ہیں۔ جو کام ذات کی نشوونما میں مدد دے وہ عمل ِ خیر اور جو کام ذات کے ضعف و اضمحلال کا موجب بنے عملِ شر ہے۔ اگر ذات کی نشوونما ہوتی رہے تو انسانی جسم سے متعلق حوادث حتٰی کہ اس کی موت کا بھی اس پر اثر نہیں پڑتا ، یعنی ایک نشوونما یافتہ ذات ، حیات جاوید پاتی ہے اسے آخرت کی زندگی کہتے ہیں۔
Leave a Reply
