Sofism – Mysticism – تصوف
الصّوفی کو لقب کے طور پر آٹھویں صدی کے نصف میں استعمال کیا گیا ۔ کوفہ میں نیم شیعی مسلمانوں کی جماعت “جماعت صوفیہ ” کہلاتی تھی ۔ امام عبدک الصوفی کی وجہ سے پھر عراقی منصوفین کے لئے استعمال ہوا ۔ صوف یا سفید اونی خرقہ جو کہ غیر ملکی اور ناپسندیدہ عسیائی لباس تصور ہوتا تھا مسلمانوں کا لباس بن گیا۔ 824ء میں پہلی دفعہ بغداد میں اسلامی تصوف کے متعلق مساجد میں درس دئیے جانے لگے۔
تصوف کی طرف انسان کی کشش اصولاً ضمیر کے اس اندرونی احتجاج کا نتیجہ ہے جو معاشرتی بے انصافیوں کے خلاف کیا جاتا ہے یہ احتجاج نہ صرف دوسروں کی بے انصافیوں کے خلاف ہوتا ہے بلکہ سب سے پہلے اور بالخصوص اپنی کوتاھیوں کے خلاف ہوتا ہے ، اس خواہش کے ساتھ کہ وصالِ باری تعالیٰ ہر ممکن وسیلے سے نصیب ہو جائے۔ فقہا نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ” اس کا انجام کجی اور گمراھی پر ہو گا۔
صوفیہ کے نزدیک نیّت عمل سے مقدم ہے اور سنت فرض سے ( یعنی عمل ، شرعیت کی لفظی پابندی سے ) اور اطاعت عبادت سے بہتر ہے۔ تصوف ظاہر عبادات کے مقابلے میں مراقبے پر زور دیتا ہے اور روح لے لئے ذاتِ خداوندی سے براہِ راست ذاتی تقرب کی راہیں نکالتا ہے اور اس کے بعد اُسے شرعی فرائض کی پابندی سے آزاد کر دیتا ہے۔
صوفیہ اپنی محفلوں میں خاص قسم کی شاعری پڑھتے ہیں جو مسلمانوں کے ادب کا خاصّہ ہے اور جس نے ہر جگہ بے حد نشو و نما پائی اس کا مقصد یہ تھا کہ جمالیاتی وسائل کی مدد سے وجدانی ھـیجان پیدا کر کے سامیعن میں جذب و مستی کی ایک مصنوعی کـفیت پیدا کی جائے ۔ یہ شاعری تصّوف کی زبان میں شراب ( خمر ) کی مدح سرائی کرتی ہے ، حالانـکہ شریعت نے اس دنیا میں اسے حرام قرار دیا ہے۔ اس میں محبت کے اس پیالے ( کاً س المحبت ) کا ذکر ہوتا ہے جو ساقی گردش میں لاتا اور پیش کرتا ہے۔ یہ شاعری اس طرح کی طویل اور مفصل تمثیلات و تلویحات سے پُر ہے ، جنہیں اکثر خطرناک قسم کے جوش اور سرگرمی سے پیش کیا جاتا ہے۔
قرآنی تصور : اگر دین کا مقصد افراد کی ذات کی نشوونما کرنا ہے تو یہ وہی انفرادی تصور ہے جس کو خانقاہیت کا مسلک ویدانت ، تصوف اپنے طریقہ پر پیش کرتا ہے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ دونوں کائنات یا انسانی ہیئت اجتماعیہ پر کیا اثر دیکھاتے ہیں۔ کائنات کی ہر شے میں خدا کا عمل ِ تخلیق اور نظامِ ربوبیت اپنے مقرر کئے قوانین کے مطابق جاری ہے۔ قرآن انسانی زندگی کا جو مقصد یعنی افراد کی ذات کی نشو ونما بتاتا ہے وہ ایک انفرادی عمل نہیں ہے، وہ انسانوں کی ہیئت اجتماعیہ بلکہ خاجی کائنات سب کو محیط ہے ، نا انسانی ذات کی نشوونما انفرادی طور پر ہو سکتی ہے اور نہ ہی نشوونما یافتہ ذات کی روشنی صرف اُس فرد کے سینے تک محدود رہتی ہے ، اس سے انسانی معاشرے کی تشکیل صیحح خطوط پر ہوتی چلی جاتی ہے۔ یــــہ وجہ ہے کہ خانقاہیت یعنی تصوف کی زندگی اور قرآنی نظریہ اور نظامِ حیات مختلف ہے ۔
افلاطون اور زینو نے دنیا کو وہ تصوف دیا جس نے خونِ رگِ کائنات کو سرد ہی نہیں منجمد کر کے رکھ دیا اور جس کے فلسفہٴ ترک و تعطل نے انسانوں کی چلتی پھرتی دنیا کو پتھروں کی بستی بنا دیا۔
Leave a Reply
