Punjabi and Punjab  ਪੰਜਾਬੀ ਤੇ ਪੰਜਾਬ

Multani Language or Dialect

مُلتانی - زبان یا بولی

کُچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آئندہ  چل کر وادی سندھ کی عمومی زبان ملتانی( پنجابی) ہو گی کیا یہ ضروری ہے کہ   وادئ سندھ یا علاقہ سپت سندھو میں اگر کسی زمانہ میں ایک مشترکہ زبان یا ثقافت تھی تو وہاں آج بھی اُسی طرح ایک مشترک زبان رائج ہو کر رہے گی، ایسا نظریہ تو ہمیں مجبور کر دے گا کہ ہندو پاک کی تمام زبانوں کے پیچھے لٹھ لےکر پڑجائیں کیونکہ اس سر زمین میں حضرتِ انسان کے پیدا ہونے کا تو کوئی سراغ نہیں ملتا اس لئے یہاں پر سب سے پہلے باہر سے آنے والوں نے چند گنتی کی زبانیں ہی اپنے اپنے  علاقوں میں رائج کی ہوں گی اس کے علاوہ یہ بھی کیوں نہ ہو کہ اس سپت سندھو کے علاقے میں پرانی دراوڑی زبان اور سمیری خط کو رواج دینے کا دعویٰ کیا جائے۔

یہ کہنا کہ ہندکو سے لے کر کچھّی تک تمام علاقہ مختلف بولیوں کا مجموعہ ہے ( جس کے وسط کی بولی ملتانی ہے ) محض خوش فہمی ہے ۔ یہ تمام کی تمام محض بولیاں نہیں ہیں بلکہ ان میں باقاعدہ زبانیں بمعہ ان کی بولیوں کے ہیں جن کو ترتیب وار ایک شجرہ کے اندر لایا جا سکتا ہے البتہ آپ ملتانی کو بخوشی پنجابی کی بولی کہہ سکتے ہیں

پنجابی زبان کی تعریف کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ علاقہ پنجاب کی بھی واضح تعریف کی جائے اگر عربی زبان عرب کے علاقہ سے باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں بولی جائے تو بھر بھی وہ عربی ہی کہلاتی ہے ۔ یہ تو مولانا سیّد سلمان ندوی کا نظریہ بن جائے گا جو انہوں نے اپنی تاریخ ارض القرآن میں دیا ہے کہ چونکہ سامی لوگوں کا اصل مسکن عرب تھا اس لئے اُن کی مشترکہ زبان بھی ایک ہو گی جو کہ وطن کے لحاظ سے عربی کہالائیگی خیر انہوں نے تو قومیت کے لحاظ سے تمام سامی زبانوں کو آرامی بھی کہہ دی تھا ( حالانکہ خالص آرامی  (Aramean) لوگوں کی زبان کو "آرامی" کہتے ہیں اور جو اُس سے نکلیں اُن سب کے گروہ کو " آرامیانی" (Aramaic) کہتے ہیں ،  نہ ساری سامی زبانوں کو کسی نے "عربی" کہا ہے اور نہ ہی "آرامیانی" کا لیبل دیا ہے۔ خود عربی بھی آرامیانی میں شامل نہیں اور نہ آرامی کو عربی میں شامل کیا جاتا ہے۔)

مانا کہ ملتانی بولی والے کو لاہور کی بولی سے یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ اس کی اپنی بولی خراب ہو جائے گی مگر یہ سب بولیاں آخر پنجابی زبان کی تو ہیں ، کیا پنجابی کی اپنی کوئی سٹینڈرڈ ادبی زبان نہیں ہے۔کسی ایک زبان کی مختلف بولیوں میں تو ہمیشہ کچھ نہ کچھ فرق ہی ہوتا ہے، اس میں نزاع کی کون سی بات ہے کیا ہم میں اتنا بھی ظرف نہیں رہا کہ اس فرق کو مزاح اور استہزاء کےبغیر برداشت کر سکیں یہ "زبان خراب ہونے والا" پرانا مسئلہ محض "نزاکت" کی بات ہے، ادبی مسئلہ نہیں ہے۔

اگر کسی شخص کی مادری زبان ابھی منجھی نہ ہو تو وہ بخوشی علمی اور ادبی رنگ کی لئے اس کو چھوڑ کر دوسری بہتر زبان بول اور لکھ سکتا ہے۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ پیدائشی بھوجپوری بولنے والا پڑھ لکھ کر برجی اختیار کر لیتا ہے ، یا ماگاری بولنے والا فوج میں بھرتی ہو کر کھاس یعنی درباری نیپالی بولنے لگ جاتا ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی مادری زبان کی سرپرستی نہ کریں ضرور کیجیے مگر عمدہ چیز  کا استعمال بھی اپنی اوپر حرام نہ سمجیئے۔ یہی وہ اعتراف تھا جو اردو دان دوست پنجابی سے کرانا چاہتا تھا جب اُس نے پوچھا تھا کہ پنجابی ہو کر اردو کیوں بولتے ہو۔

اس علاقہ کی لسانی تاریخ دیکھی جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آریہ لوگ اپنے ساتھ دیوبانی زبان یعنی ویدک بھاشا (ویدک سنسکرت) لائے ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ سارے کے سارے وید اسی سرزمین میں تصنیف ہوئے کیونکہ اُن کے پاس رگ وید پہلے سے ہی اس  دیوبانی میں موجود تھا، باقیماندہ وید ضرور یہاں بنے کیونکہ اس سر زمین کی قدرتی چیزوں کا ذکر ان میں ملتا ہے اس ویدک سنسکرت کے بعد کلاسیکل سنسکرت ( جس کا عالم پاننی تھا) پیدا ہوئی جس کا دارومدار مدھیادیس کی اُس قدیم ہند آریائی بولی پر تھا جس سے بعد میں سوراسینی پراکرات نکلی، یہاں تک کہ کلاسیکل سنسکرت میں لکھی ہوئی مہابھارت کے بیشتر شاعرانہ الفاظ کا ماخذ قدیم ہند آریائی سروسادھارن بولیوں میں جا کر ملتا ہے جب کلاسیکل سنسکرت کا زمانہ ختم ہوا تو سنسکرت کے عالموں ( کالی داس وغیرہ) نے اس میں باقیماندہ پراکرتوں سے الفاظ لے کر شامل کر دئیے ۔ یہی وہ ویدوں کی زمانہ کے بعد کی سنسکرت ہے ( یعنی کلاسیکل سنسکرت اور بعد کی سنسکرت) جس کے متعلق  کہا جاتا ہے کہ ملتانی سے مغائرت کر گئی۔ مگر حیرانی ہے کہ جب ملتانی کو ویدک سنسکرت کی حقیقی خلف دکھانے کے لئے مثالیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ ویدک کی بجائے دوسری سنسکرت سے دی جاتی ہیں۔

بہر حال آپ سنسکرت کی کوئی سی بھی حالت لے لیں، آپ ملتانی کو سنسکرت  کا خلف ثابت کرنے میں تاریخ کے اُس دَور کو کہاں چھپائیں گے جو پانچویں صدی  ق م ( جب اس علاقے میں سنسکرت بول چال کی زبان نہ رہی) کے بعد سے شروع ہو کر بارہویں صدی عیسوی ( جب سے ملتانی کا آغاز ہوتا ہے) تک رہا ہے یہ نا ممکن ہے کہ اتنے لمبے عرصہ میں ملتانی آرام سے نیند کی حالت میں بے حس و حرکت پڑی رہی  یا  اچانک کسی نے اِسکو بارھویں صدی عیسوی میں اپنی آباء کی طرف رجوع کرنے کاخیال دلایا۔ لہذا ہم اس دوّر کا مختصر سا حال بیان کرتے ہیں۔

پنجابی کی جڑ بنیاد باہر کے دائرے کی شمال مغربی گروہ کی بولیوں (جو کہ چُولیکا پَیشاچی کے ساتھ لگّا کھاتی ہیں) کی ہے، جس میں بعد میں آکر سیالکوٹ کی ٹاکی اور شمال کے بُدّھوں کی زبان نے آبیاری کی۔ اس تمام عرصہ میں ہماری بول چال کی زبان پر ادبی زبانوں کا بھی کافی اثر رہا۔ مثلا ً شروع میں سنسکرت کا ، اس کے بعد سوراسینی پراکرات کا دوّر اُس زمانہ میں شروع ہوا جب سیالکوٹ کے گردونواح ٹاکا قوم کے علاقہ میں بول چال کی ڈھکّی  یا   ٹاکی زبان بھی بولی جاتی تھی۔ یہ ٹاکی زبان مغربی ادبی اپبھرنشا کی ایک وِبھاشا تھی یا یوں سمجھیئے کہ ماگدھی اور سوراسینی پراکرتوں کی ایک اپبھرنشا تھی ۔ اس  کے بعد بدھ مت کی وہ پالی جو اودھی زبان سے تعلق رکھتی تھی میدان میں آئی جبکہ شمالی بدّھوں  کی زبان بول چال کی زبان تھی نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ شمالی علاقہ میں ادبی رنگ پہلے ساہسکرتی کا رہا، پھر ہندوی کا ہوا، اور آخر میں آ کر ہمیں سوراسینی پراکرت کی ایک اپبھرنشا پیدا ہوتی نظر آتی ہے جس کو "لاہنڈا" کہا جاتا ہے کچھ ایسی ہی تبدیلیوں سے جنوبی حصہ میں وراچٹا پھیلی جس سے سندھی زبان بنی۔

اِسی لاہنڈا پر جب لاہو کی جانب فارسی عربی کا مزید اثر ہوا اور بعد میں برجی کا اثر اردو کی وساطت سے ہوا تو یہ نکھری ہوئی مشرقی پنجابی بنی جس سے مختلف بولیاں (مثلا ً لاہوری) پیدا ہوئیں اسی طرح مغرب کی جانب یہی لاہنڈا مقامی تبدیلیوں سے مغربی پنجابی بنی جو کہ مختلف بولیوں ( مثلا ً  ملتانی) میں بٹ گئی اس سے واضح ہو گیا ہو گا کہ لاہوری ( مشرقی پنجابی) اور ملتانی ( مغربی پنجابی) ایک ہی زبان پنجابی کی بولیاں ہیں سر جارج گریرسن کا مغربی پنجابی کو پنجابی سی علیحدہ "لاہنڈا" زبان قرار دینا محض اردو اور ہندی کی طرح فساد کا پیش خیمہ بنانا ہے  چہ جائیکہ ملتانی کو سنسکرت کا خلف کہا جائے۔

کافی عرصہ کے استعمال کے بعد پختہ اور واضح حیثیت حاصل کی ہوئی بولیوں کے اُس مجموعہ کو جو لسانیاتی رشتہ کے لحاظ سے اُن کی بولنے والوں کی سمجھ میں آنےوالا ہو ایک زبان کے تحت لے لیا جاتا ہے جس کا نام عموماً اُس کی نمائندہ بولی پر رکھ لیا جاتا ہے، مثلا ً پنجابی ، یا قوم کے نام پر وغیرہ، اس کے بعد عمومی طور پر اس زبان کی ہر بولی پر اُسی زبان کا نام عائد ہو گا، گو ان کے اپنے اپنے علیحدہ نام بھی ہوتے ہیں۔ زبان کی حالت کو برقرار رکھنے کے لئے ایک معیار مان لیا جاتاہے جو کہ نمائندہ بولی ( نمائندہ بولی کے علاوہ دُوسرے مقامات کی بولیوں کو زبانِ لُر کہا جاتا ہے) کا ہی انتہائی ترقی یافتہ نقشہ ہوتا ہے (مثلا ً ملتانی) مگر بعد میں یہ نمائندگی کسی دوسری بولی کو حاصل ہو جائے تو اُس وقت اُسی کا ہی ایسا نقشہ معیاری سمجھ لیا جاتا ہے ( مثلا ً  آج کل کی وزیرآبادی بولی) لا محالہ ایسی معیاری زبان علمی اور ادبی استعمال میں برقرار رکھی جاتی ہے اور کسی خاص علاقہ میں آزادانہ بول چال کی زبان نہیں ہو سکتی جب تک کہ انتہائی ترقی کا عالم نہ پہنچ گیا ہو مثلا ً اردو زبان کی اردو بولی کی قلعہ معلی کی فرعی بولی کے رنگ پر معیاری زبان اردوئے معلی کہلاتی ہے۔ ہو سکتا ہے دوسری زبانوں میں ( مثلاً پنجابی میں ) معیاری زبان کا علیحدہ نام کوئی بھی نہ رکھا گیا ہو اس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہو گا کہ یہ کہنا کہاں تک غلط ہے کہ "اردو زبان کسی علاقے میں بولی نہیں جاتی، صرف لکھی جاتی ہے"۔

یہ بیان کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ  دو زبانوں کے الفاظ  کا محض صوتیاتی ملاپ دکھانے سے کبھی اُن میں سے ایک کا دوسری کا خلف ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ مثلا ً جس طرح سنسکرت سے ملتانی کا صَوتیاتی قُرب دکھایا جاتا ہے ( اس کی تفصیل اس مضمون کے خاتمہ پر دی جائے گی ) اس  طرح تو مندرجہ ذیل مثلوں سے لاہوری  ( مشرقی پنجابی) کو بہ نسبت ملتانی ( مغربی پنجابی) کے سنسکرت کے زیادہ قریب دکھا سکتے ہیں ، مثلا ً : --


کہا گیا ہے کہ ہندی کا سنسکرت سے کوئی جسمانی رشتہ نہیں ہے بلکہ خادمہ کا سا تعلق ہے یہاں شاید ہندی سے مطلب "جدید ہندی" ہے کیونکہ ہندی بذاتِ خود تو کسی خاص ایک زبان کا نام نہیں ہے۔ اگر واقعی جدید ہندی کا سنسکرت سے کوئی جسمانی رشتہ نہیں تو کم از کم اب تو بھارت میں ایسا رشتہ گانٹھا جا رہا ہے، اور اُس پرانےلُٹے ہوئے اقتدار کو واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کیا بعنیہہ اسی طرح ملتانی کا سبق تو نہیں دیا جا رہا کہ چونکہ  آج کل کی پنجابی بولیوں میں سب سے پہلے ملتانی کو سٹینڈرڈ مانا جاتا تھا ( جو کہ اب نہیں ) اس لئے اُس لُٹی ہوئی  ساکھ  کو واپس قائم رکھا جائے ۔ اس کے لئے فارمُولا یہ دیا جاتا ہے کہ پنجابی بولیوں کے نزاعی اختلافات کو مٹانے کے لئے سنسکرت کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اگر ملتانی اپنی سٹینڈرڈ حیثیت کھو چُکنے کے بعد آج تک اپنے اندر مزید ترقی سے رُکے ہوئے پرانے الفاظ یا  بناوٹیں سموئے ہوئے ہے تو ترقی یافتہ لاہوری کے الفاظ اتنی منزلیں طے کر چکنے کے بعد اب رجعت کر جائیں۔

ہر زبان اور ہر بولی اپنی اپنی لسانیاتی منزلیں طے کیا کرتی ہے۔ کوئی شخص اس پر گرفت نہیں لگا سکتا  اس بات کو آپ مثالوں سے دیکھ لیجئے بعض جگہ ایک ہی سنسکرت ماخذ سے مشرقی اور مغربی پنجابی نے اپنے اپنے الفاظ مختلف پیرائے میں بنا لئے ہیں ، مثلا ً : ---


بعض جگہ مختلف سنسکرت ماخذوں سے پنجابی کی دونوں شاخوں نے اپنے اپنے الفاظ ایک ہی معنوں میں لگ بھگ ایک ہی شکل کے بنا لئے ہیں ، مثلا ً


کہیں کہیں ایک ہی شاخ نے دو دو مختلف الفاظ ایک ہی سنسکرت ماخذ سے بنا لئے ہیں مثلا ً



مختلف معنوں میں  :----


کہیں پر ایک ہی بولی نے دو مختلف ماخذوں سے مختلف معنوں میں ایک ہی لفظ بنا لیا ہے مثلا ً


اب سنسکرت سے ملتانی کا جو  صَوتیاتی قُرب دکھایا جاتا ہے ان مثالوں کا ہلکا سا جائزہ  : ---

اگر "آسِیت" کا تعلق مغربی پنجابی میں "آہا"  یا  "ہا"  سے اور مشرقی پنجابی میں "سی"  یا "سا"  سے ہی ہے اور اُردو کے "تھا"  سے نہیں ہے، تو پھر پنجابی کی بعض مقامی بولیوں میں "تھا"  کیوں استعمال کیا جاتا ہے اور مغربی پنجابی میں تو خاص کر مصدر "تِھینا"  اور "تھینا"  باقاعدہ گردانے جاتے ہیں ( تھیاں، تِھیسی ، تھےآ ، تھئی وغیرہ) "آہا" لفظ تو لیا ہی گیا ہے براہِ راست لاہنڈا سے۔

اگر "سنتی" کا تعلق "ہَن"(ملتانی) اور "نے"(لاہوری) سے ہی ہے، اور اردو والوں نے " ہئیں " استعمال کر کے ملتانیوں کا مُنھ چڑایا ہے تو خود پنجابی اس کی گردان ( ہاں۔ ہاں۔ ہَیں ۔ہو۔ ہَے۔ ہَین یا ہَن ) کیوں استعمال کرنے لگ گئے۔

ہم نے "شوبھن" سے لفظ "سوہنا" نکال کر ( بمعنی خوب صورت) استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اسی معنوں میں "سُندر" لفظ بھی استعمال کیا۔ خَوب صورتی کے لئے ہم نے  "شوبھا" کے علاوہ "سُبھَت دَنا" سے الفاظ سُہپّن اور سُنَھپّ بھی استعمال کئے مگر اردو والوں نے صرف شوبھا ( بمعنی خوب صورتی )اور سُندر ( بمعنی خوبصورت ) ہی استعمال کئے۔ باقیماندہ اوپر کے الفاظ اگر اُردو والوں نے نہیں استعمال کئے تو اس میں ملتانی کو کیا ورثہ ملا۔

اگر "شَوہ" اور "صُبح" ایک ہی چیز  ہے تو آپ صبح سے صباحِین کی بجائے شَوہ سے سبھائِیں سمجھ لیں۔ یہ کون سی دلیل ورثہ کے لئے ٹھہری کہ ایک لفظ پنجابی میں ہے تو اردو میں نہیں ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں کہ پنجابی میں سنسکرت سے بنائے ہوئے وہ الفاظ نہیں ہیں جو اردو میں مستعمل ہیں۔

"دا" کے بیان میں ذکر آئے گا کہ دو الفاظ اکٹھے جُڑے ہوئےسمجھنا تصریفی زبابوں کا خاصہ ہے ۔ اسی لئے ملتانی ( جو اب بھی کہیں کہیں پرانا تصریفی رنگ رکھتی ہے) میں اٹکنا وغیرہ سے اٹکسی، اٹکیسی، اٹکویسی ، اٹِکیسی جیسے الفاظ صیغہ مستقبل کے لئے رائج ہیں ،  مگر مشرقی پنجابی میں یہ رحجان پرانےرنگ کا کم ہو کر غیر تصریفی رنگ رکھتے ہوئے دونوں الفاظ علیحدہ علیحدہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لئے وہاں صیغہ مستقبل میں علیحدہ الفاظ " گا ۔ گے ۔ گی" اردو کی طرح رائج ہیں۔ لفظ "کرِتا " سے اصولا ً   "کِیتا " ( بغیر "ت" کی تشدید کے) بنا۔ مگر پنجابی نے سُتّا،   تَتّا  وغیرہ الفاظ کی بناوٹ پر غلطی سے " کِیتا" کی "ت" کو بھی لمبا کر کے تشدید سے پڑھا۔ یہ تو غیر پنجابیوں نے اس غلطی کو محسوس کیا اور جونہی "ت " کو اکہرا سمجھا فورا ً  اصول کے مطابق ایسی "ت" اُڑ گئی اور  "کیا(ک کےنیچے کھڑی زیر)" بن گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم "مِرتا" سے "مویا" گھرِتا سے "گھیؤ" ترِتا سے "تیا ( ت کے نیچے کھڑی زیر)" اسی غلطی سے ماورا ہو کر بولتے ہیں ورنہ "کِیتا" کی طرح یہاں غلطی کروگے تو "موتا" اور گھیتا،  تِیتَا " بولو گے۔

سنسکرت ماخذ کچھ ہی سمجھ لیا جائے ۔ اگر "دیم"  کی دال  کو ملتانی نے ڈال بنا کر استعمال کیا ہے تو اس پر کیا اعتراض ہے کہ مشرقی پنجابی نے اسی دال کو  رے  بنا کر استعمال کر لیا ( اور اردو نے کاف بنا لیا)،  اگر واقعی "ڈا"  لاحقہ نہیں ہے تو پھر "اُہدا" اور "اُنہاں دا" کی بجائے بھی شوق سے " اُہڈا" اور اُنہاں ڈا " بولیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سنسکرت کے لفظ "اسمے"ا(یا   اَسمان) سے "اسّے" بنا اور پھر "اُس " بنا ۔یہیں سے الفاظ "اَسِیں " اور "اَساں " بنے۔ اسی طرح سنسکرت کے  لفظ "تشمے ( یا  تُشمان) سے "تُسے بنا اور پھر  "تُس" بنا، جہاں سے الفاظ تُسِیں اور تُساں بنے۔ الفاظ اَسِیں اور تسِیں چونکہ اسم آلہ ہیں اسی لئے ان کے آگے حالت عاملہ کی نشانی "نے " یا کوئی  اور جزو لاحق ( دا۔ نُوں۔ توں) نہیں لاتے مگر اساں اور تُساں چونکہ اسم کی مثال پر حالت جمع اضافی سمجھ لئے گئے ہیں ۔ اس لئے ان کے بعد  "نے " "دا" وغیرہ کا لانا اپنی مرضی پر منحصر ہے مثلا ً  "اسِین نے" غلط ہو گا مگر  "اساں نے" صحیح  ہو گا۔

اس کے بعد سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے الفاظ پر جب نبرہ پہلے رکن تہجی پر ہو تو "نے " "دا" وغیرہ کو علیحدہ سمجھا جاتا ہے ۔ مگر جب نبرہ دوسرے رکن تہجی پر آئے تو تمام کا تمام لفظ بمعہ "نے "  "دا" وغیرہ کے  ( تصریفی زبان کے خاصہ کے مطابق) ایک ہی سمجھا جاتا ہے مثلا ً  اساڈا (ساڈا) ۔ تُساڈا (تُہاڈا)۔ یہاں پر ہی "دا" کو "ڈا" میں بدلا جاتا ہے ۔ اسی نبرہ کی وجہ سے "اُہدا " اور "اُنہاں دا" کو دو دو الفاظ سمجھا جاتا ہے اور "دا" کی بجائے "ڈا" نہیں استعمال ہوتا۔

 صوتیاتی اصولوں سے جو زبان میں تبدیلیاں ہُوا کرتی ہیں ان کے مطابق گریرسن کی تھیوری کے بر خلاف  بِمیز کی تھیوری زیادہ مستند مانی جاتی ہے کہ حالت اضافی کا جزو لاحق "دا" اصل میں لفظ "سَنت"سے نکلا ہے یعنی پہلے "سَندا" بنا پھر " ہَندا" بنا ، بعد میں اس کو دوسرے لفظ کا لاحقہ سمجھ کر حرف "ہ" اڑا کر "آندا" بنا۔ جس سے پنجابی میں "دا" بنا اور ملتانی نے اس کو "ڈا" بھی بنایا۔ اسی ملتانی کی مغربی پنجابی کی بولی پوٹھواری نے "آندا" سے اَننا" بنایا اور پھر "نا" بنا لیا یعنی اسی مغربی پنجابی میں "ڈا" اور "نا" دونوں مستعمل ہوئے یہی وجہ ہے کہ "میڈا"  " تیڈا"  کو "نون" کے ساتھ پنڈوجی میں " مینا" "تینا" بولتے ہیں ۔ یہ انہیں دونوں کے مرکب سے "مینڈا"  تینڈا" بنا۔ لاہوری زبان کسی طرح بھی اس زائد نون کی ذمہ دار نہیں ہے۔

اگر مغربی پنجابی نے " آیَنَتِ " سے  " آننا" بنا لیا تو مشرقی پنجابی نے " لاگَیَتِ " سے  "لانا" بنا لیا ۔ بُعد کا کیا سوال رہا۔

 

 Back to Previous Page

تیری  نظرِ  تغافل  نے  غَضب  کِیتا ، بڑا  سِتم  تیرے اِنتشار  کِیتا
کالے  وعدیاں  وچ  سفید  ہو گئے ، ایتھوں  تیک  تیرا  انتظار  کِیتا
اچھّا  بہت اچھّا ، ہاں  ہاں  کِیتا ، تُساں  جَدوں   کِیتا  اِنکار کِیتا
کرم عاشق دے صَبر نُوں ویکھیا ای ، نہ اظہار کِیتا نہ اصرار کِیتا


Comments


zulfiqar ali
04 Jun 2015, 11:47
اپ کے اس آرٹیکل میں ملتانی سرائیکی کو ڈی گریڈ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ایک جانب آپ فر مارھے ہین کہ ملتانی سرائیکی پنجابی ایک زبانین ہیں لیکن آپ اس ملتانی کی خود ساختہ خامیاں نکال کر پنجابی کی بڑائیاں پیش کر رھے ہین مھترم اگر ملتانی پنجابی ہی ہے تو اس کی شان بیان کرین نہ کہ اس کی برائیاں پیش کرین لیکن اپ ایسا نہین کرین گے کیونکہ سرائیکی یا ملتانی ایک علحیدہ اور مکمل زبان ھے اس کا کسی پنجابی نامی زبان سے کوئی واسطہ نہین اور نہ ہی اس کے بولنے والوں کی کسی پانچدریائی نامی زمین سے ہے یہ اپنی ایک شناخت رکھتی ہے اس کا قد پنجابی سے کہین بڑا ھے پنجابی ایک پست قامد زبان ھے رنجیت سنگھ ڈا کو کی پیدا کردہ

admin
11 Jun 2015, 13:37
تُسی ایتھے لکھیا ساڈے لئی ایہہ ہی بہت وَڈی گل ہے۔ تہاڈے خیالات دا شکریہ۔

حبیب ادریس رند بلوشی
03 Feb 2018, 08:45
صوبہ سرائیکستان
7کروڑ افراد سرائیکی خطے سے تعلق ر کھتے ہیں خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اورزمینی حقائق ایک عرصے سے تقاضا کررہے ہیں کہ سرائیکی خطہ جسے سرائیکی وسیب کہا جاتا ہے۔ اسے الگ صوبہ بنادیا جائے۔
صوبہ پنجاب کی تقسیم وقت کا تقاضا اور ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے مگر شاید ہمارے ہاں ہر مسئلے کو متنازعہ بنانا کھیل بن چکا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجاب کا بڑا حصہ پاکستان کے حصے میں آیا۔ جو ہندوستان کے حصے میں آیا اسے وہاں کے حکمرانوں نے تقسیم کر کے مزیدصوبے بنادیئے ہیں تاکہ وسائل بہتر طریقے سے عوام پر خرچ کئے جاسکیںاور عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دوردراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔
پنجاب میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث گھمبیر مسائل جنم لے رہے ہیں جو نفرت کی دیواریں کھڑی کررہے ہیں۔پورے پنجاب کے وسائل ایک ہی شہر پر خرچ کیے جارہے ہیں جوکہ دانشمنداہ اقدام نہیں ہے۔افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جب بھی پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے سازش قرار دے دیا جاتا ہے۔خطہ سرائیکی وسیب بارے زبانی دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ اول تو یہاں کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جاتا ہے اگر شروع ہوجاتا ہے تو اس کو اس قدر طویل کردیا جاتا ہے کہ وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ صحت کی سہولیات پر نظر ڈالی جائے تو سرائیکی وسیب کے عوام کئی دہائیوں تک صرف ایک نشتر ہسپتال میں جیتے اور مرتے رہے۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں باریاں بدل کر حکمرانی کرتی رہی ہیں مگر کسی کو توفیق نہ ہوسکی کہ یہاں کوئی دوسرا بڑا ہسپتال ہی قائم کردیتے۔ سیاسی حکومتوں کو توفیق نہ ہوسکی البتہ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں یہاں دل کے امراض کا ایک ہسپتال قائم کرکے یہاں کے عوام کو اچھی سہولت فراہم کی گئی۔
ملتان میں چلڈرن کمپلیکس کا منصوبہ ایک عرصے سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا ہے۔دورے تو بہت ہوتے ہیں مگر ہسپتال ورکنگ میں نہیں آرہا۔
خواتین کیلئے بنایا گیا فاطمہ جناح ہسپتال چند گھنٹے کھلتا ہے۔ اس کے بعد اگر کسی خاتون کو زچگی کے مرحلے سے گزرنا ہو تو پھر پرائیویٹ ہسپتالوں کی چیرہ دستیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں جہاں عوام کی چمڑی ادھیڑ لی جاتی ہے۔خواتین کے ہسپتال کو 24گھنٹے کھلا رکھنے میں کون سا امر مانع ہے ¾ کوئی نہیں جانتا۔ اگر سٹاف کی کمی ہے تو کیا اسے یہاں کے عوام نے پورا کرنا ہے۔
اسی ہسپتال کے عقب میں ایک عمارت قائم ہے جس کا نام میاں شہباز شریف ہسپتال ہے۔ یہ بھی کسی ٹیوشن سنٹر کی طرح چند گھنٹوں کے لئے کھلتا ہے۔ اسے بند رکھ کے کونسا ثواب کمایا جارہا اس بارے بھی کوئی نہیں جانتا۔ کڈنی سنٹر کا منصوبہ بھی ہر سال بجٹ کا منہ چڑاتا ہے۔ ہر سال رقم مختص ہوتی ہے پھر نجانے کہاں چلی جاتی ہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ12 سال سے حکمرانوں کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ملتان میں ڈینٹل کالج کی ایک وسیع اور خوبصورت عمارت موجود ہے مگریہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اس شاندار عمارت میں آج تک آپریشن تھیٹر قائم نہیں ہوسکا۔پاک اٹالین برن یونٹ کا کام 70 فیصد باقی ہے ¾رقم ملتی نہیں کام مکمل ہوتا نہیں۔سرائیکی خطہ کے لوگوں کی سہولت کیلئے کینسر سنٹر کی تعمیر کا منصوبہ کئی برس سے بنیادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔تعلیم کے شعبہ کا حال بھی صحت کے شعبے سے کم برا نہیں ہے۔چند برس قبل ملتان میں زرعی یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے لئے الگ سے ایک جگہ کا انتخاب کرکے باقاعدہ یونیورسٹی قائم کی جاتی مگر ایسا نہ ہوا۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں شجاع آباد روڈ پر غریب علاقہ کی بچیوں کے لئے بنائے گئے سکول میں اس یونیورسٹی کا افتتاح کردیا گیا اور اس کا نام میاں نوازشریف یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔اس علاقہ کی بچیاں ابتدائی تعلیم کیلئے کہاں جائیں گی، کتنا فاصلہ طے کر کے جائیں گی،کیسے جائیںگی؟ کسی نے نہ سوچا۔ خواتین یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو یہاں پر بھی اسی قسم کی تاریخ دہرائی گئی۔ گورنمنٹ خواتین کالج کچہری روڈ کو بند کرکے یہاں خواتین یونیورسٹی قائم کردی گئی۔ ہزاروں غریب بچیوں کا مستقبل تاریک کردیا گیا۔ اسی طرح کے دیگرکئی برسوں سے منصوبے التواءکا شکار ہیں ۔منصوبے یہاں اور بجٹ کہیں اور خرچ ہوجاتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں لاہور کی سڑکوں سے سرائیکی وسیب کی پھٹی کی خوشبو آتی ہے۔شہریوں کیلئے تفریح گاہوں کا قیام بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ لاہور میں گریٹر فیصل پارک قائم کیا گیا بہت اچھی بات ہے مگر سرائیکی وسیب کے اہم ترین شہر ملتان میں انگریز دور کے ایک پارک کے علاوہ کوئی دوسری ایسی جگہ نہیں ہے جہاں عوام کو تفریح میسر ہوسکے۔ کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ایک‘ دو پارک موجود ضرور ہیں‘ کیا ان پر بجٹ کی رقم خرچ کرنا ممنوع ہے۔ دو برس قبل وزیر اعلیٰ تخت لہور نے ملتان کا دورہ کیا اور متی تل روڈ پر 70 ایکڑ رقبے پر فٹبال سٹیڈیم اور سپورٹس کمپلیکس کی تعمیرکا افتتاح کیا اور اس منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا۔آج دو برس بعد بات اعلان اور وعدے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔میٹرو بس کا منصوبہ ہوتو ریکارڈ مدت میں مکمل ہوجاتا ہے کیونکہ اس میں موجودہ حکمرانوںکی ذاتی دلچسپی شامل ہوتی ہے جبکہ دیگر منصوبے مکمل ہونے میں ہی نہیں آرہے۔گزشتہ ماہ بڑی بڑی خبریں شائع ہوئیں کہ سرائیکی وسیب کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ملتان میں سب سول سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔حکومت نے اس کام میں بھی سنجیدگی کا مظاہر نہیں کیا۔حالیہ بجٹ میں سب سول سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے کوئی رقم نہیں رکھی گئی ۔ ماضی میں جتنے بھی بجٹ آئے سب میں سرائیکی وسیب کے ذکر کے ساتھ بجٹ میں ایک بڑی رقم رکھی جاتی ہے مگر رقم صرف بجٹ تقریر میں پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ معمولی رقم خرچ کرکے بڑی رقم تخت لاہور کے منصوبوں کیلئے واپس منگوالی جاتی ہے۔ تخت لاہور میں میٹرو بس ہو یا پھر اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ ¾سب کی تکمیل کیلئے سرائیکی وسیب کے بجٹ کو کٹ لگایا گیا۔ حالیہ بجٹ میں بھی حکومت پنجاب نے 222ارب روپے کی رقم سرائیکی وسیب کیلئے مختص کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن برسوں کی طرح اس بار بھی رقم لاہور کے منصوبے کی نذر ہو گی۔ حکمران ہر سال بجٹ میں برائے نام رقم مختص کر کے یہاں کے وسیب کی عوام سے دھوکہ کرتے ہیں جس سے نفرتیں جنم لے رہی ہیں، بہتر یہی ہے کہ سرائیکی وسیب کو الگ صوبہ بنایی تاکہ اس خطہ کے وسائل اسی پر خرچ ہوں۔تخت لاہور اپنے وسائل پر گزارہ کرے دوسروں کی حق تلفی نہ کرے۔

admin
06 Feb 2018, 02:18
جی ہر کسی نوں حق ہے جے تسی اپنا صوبہ بنانا چاہندے ہو ، تے اسی تہاڈے لئی دعا کراں گے تہاڈی خواہش پوری ہووے۔



All Comments



*Name:
Email:
Notify me about new comments on this page
Hide my email
*Text:
 
 
Powered by Scriptsmill Comments Script


Pages


  
Desi Calendar

For better view the web site requires the download of ; 'Roz Urdu Punjabi Nastaleeq Shahmukhi Font.


عورت کی زندگی کا بیشتر حصّہ اولاد کی پیدائش اور پرورش کے لئے وقف رہتا ہے جس میں وہ خود کچھ کمانے کے قابل نہیں رہتی اس لۓ عورت کی ضروریاتٍ زندگی پوری کرنے کی ذمہ داری مرد پر ہے۔


All Comments

Recent Comments



Компания http://mstore-nn.ru/ - MachineStore обеспечивает производственные, строительные и торго ....... Read more ----mstoreCaple

online casino <a href=http://playcasinoonline24.com/>online casino</a> <a href="http://playcasinoonline24.com/">online casino ga ....... Read more ----NicoleGot