Punjabi and Punjab  ਪੰਜਾਬੀ ਤੇ ਪੰਜਾਬ

Alphabet, Shahmukhi Punjabi

الف بے دی پٹی

( ”ث ، ح ، خ ، ذ ، ز ، ژ ، ص ، ض ، ط ، ظ ، ع ، غ ، ف ، ق “ حروف پنجابی میں نہیں ہیں لیکن لکھنے میں آتے ہیں تاکہ الفاظ آپنے ماخذ کے قریب رہیں۔ )


پنجابی زبان کی کُچھ آوازیں ایسی ہیں  جن کے لئے کوئی حرف نہیں بنایا گیا، ایسی آوازیں وہ ہیں جنہیں صرف ماجھے میں بولا جاتاہے ، اُن کو بولنے کا انداز نیچے بتایا جاتا ہے:-

 
پنجابی کو اردو نستعلیق کے ہجا کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوّے لکھا جاتا ہے تاکہ پڑھنے میں کوئی بُعد نہ پایا جائے ، مگر پھر بھی تلفظ دکھانے کے لئے کہیں کہیں ان اصولوں کو توڑ کر کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ آپ نے پنجابی کی الف بے پڑھی ہو گی یہ اردو سے زیادہ مختلف نہیں ہے ، لیکن جس طرح انگریزی (بلکہ کسی بھی زبان ) کے لفظ کو پڑھ کر آپ اس کا اصل تلفظ نہیں جان سکتے اسی طرح پنجابی کا اصل تلفظ آپ اس وقت تک نہیں جان سکتے جب تک آپ اسےکسی پنجابی بولنے والے سے نا سُنیں۔ پنجابی اردو کے لہجہ میں نہیں پڑھنی چاہیئے۔پنجابی کی “الف بے” اپنی علیحدہ خصوصیات رکھتی ہے اور اس کی آوازیں اپنی ہوتی ہیں اس “الف بے ” کو اردو ابجد کی آوازوں سے پڑھنا بالکل ایسا ہی ہو گا جیسے آپ انگریزی کو اردو کے لہجہ میں بول رہے ہوں۔

Shahmukhi Punjabi is written in Urdu Nastaleeq script with some changes. It consists of 52 alphabets. It is written from right to left. The first thing you need to do is to learn and remember these alphabets. Once you are able to recognize these alphabets you’ll learn very fast, It is easy.

صوتی نقطۂ نظر سے ہر زبان کو دو حصّوں میں بانٹا جا سکتا ہے مصوّتہِ (Vowels) یعنی حرکاتی حروف اور مصّمتے (Consonant)یعنی حروف صحیح (سِکھنے حرف)۔ پنجابی میں بھی مصوّتہِ دو طرح کے ہیں:-

1- ا، و، ی (Vowels)

2- بَھتّاں ( حرکات۔ اعراب ) (These signs are called “Bhataan” – short vowels)

زبر – zabar ( َ) زیر – zair( ِ ) پیش – paish( ُ) شد – shadd or Tashdeed ( ّ ) جزم – Jazam ( ْ) ہمزہ – hamzah ( ء ) موقوف جزم – Moqoof jazam ( ˘ ) نوکدار ٹوپی نما جزم – Nokedaar topi numa jazam ( ^ ) کھڑی زیر – Khari zair ( ٖ ) خطِ معدولہ – Khat-e-maddola ( _ )

ان کے علاوہ دوہرے مصوّتے اور اعراب بھی ہیں۔ پنجابی کی تمام بولیوں کی حرکات دکھانے کے لئے املاء میں کافی تراکیب موجود نہیں ، ان میں اضافہ کرنا بھی ٹھیک نہیں اس لئے موقوف جزم ، ہمزہ ، نوکدار ٹوپی نما جزم ، خطِ معدولہ ( جس ‘ و ‘ کے نیچے اُفقی لکیر ہوتی ہے اس واؤ کو واؤ مسروقہ بھی کہتے ہیں) اورکھڑی زیر کے استعمال سےتلفظ دکھایا جاتا ہے، کئی جگہ ایک کی جگہ دو دو حرکات ایک ہی وقت میں استعمال ہوتی ہیں۔
 سالشی ‘ ڑ ‘ کو اس R rayکے نیچے ایک نکتہ، اورمُوردھنیا لام کے لئے اس کے  نیچے ایک نقطہ ، مُوردھنیا میم کے لئے اس کے نیچےایک نقطہ  اور مُوردھنیا نون ( ‘ اُلٹا نون ‘ یا ‘ اَڑنُون ‘ ) کے لئے نون میں اوپر  نیچے دو نقطے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں  یہ آوازیں خاص اصولوں کے تحت آتی ہے اور نقطہ کا اضافہ کر کے صرف اس کا فرق بتایا جاتا ہے اس لئے انہیں ابجد میں شامل نہیں ہونا چاہئیے ، اسی طرح جیسے زیر زبر ابجد کا حصًہ نہیں ہیں۔ ہمزہ جوکہ لفظ کے آخر میں لکھا جاتا ہے وہ تو جائز ہے پر جب ہمزہ سے پہلے کوئی ایسا حرف ہو، جو جوڑ سکتے ہوں تو ہمزہ شوشہ کے اُوپر ڈالنا چاہیے،   مثلاً     

پنجابی کس طرح لکھی اور پڑھی جاۓ (پنجابی)
مغربی پنجابی (شاہ مکھی) دا رسم الخط تے پنجابی آوازاں Punjabi Script and Sounds
اردو صفحات Urdu Pages



Lesson - 12 Lesson - 11 Lesson - 10 Lesson - 9 Lesson - 8 Lesson - 7 Lesson - 6 Lesson - 5 Lesson - 4 Lesson - 3 Lesson - 2 Lesson - 1
Last

Back to Previous Page

سَجناں بولن دی جا ناہیں
اَندر  باہر  اِکّا  سائیں، کِس  نُوں  آکھ  سُنائیں
اِکّو  دِلبر  سَبھ  گھٹ رویا  دُوجا نہیں  کدائیں!
کہے حسن فقیر سائیں دا سَت گُر توں بَل جائیں