Punjabi and Punjab  ਪੰਜਾਬੀ ਤੇ ਪੰਜਾਬ



Punjabi Language and National Integration

پنجابی کے لِسانی رابطے ، تاریخ و اِرتقا کے پس منظر میں

( یہ لیکچر  "نیشنل بُک کونسل آف پاکستان کی جولائی 1984 ء میں ہونے والی ورکشاپ کے لئے سردار محمد خاں نے لکھا تھا۔)

اُنِّیسوِیں صدی عیسوی کے دوران اور شروع صدی بِیسوِیں میں لِسانی مسائل میں سے سب سے زیادہ توجہ تبوِیب الالسنہ یعنی زبانوں کی شجرہ بَندی (language classification) پر دی جاتی رہی جس کے نتیجہ میں یہ طے پایا کہ دراوڑی اور آسٹرک کے علاوہ اِس برصغیر کی تمام زبانیں (Indo - European) ہِند آریائی خاندان کی زبانوں سے تعلق رکھتی ہیں ۔ خصوصا ً اِیرانی اور داردی زبانوں کے علاقہِ کو چھوڑ کر اِنڈک (Indic) شاخ کا بہت وسیع خطہ سندھ سے لے کر بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ شاید سیاست اِس کی متقاضی ہوتی ہے کہ لِسانی رشتوں کو کسی نہ کسی طرح استوار کیا جائے۔

بہر حال ہند یورپی زبانوں کا یہ رشتہ آجکل کئی اطراف سے دعوتِ مُبارزت دے رہا ہے، کیونکہ اِنڈک شاخ جو صرف ویدک بھاشا پر مُشتمل ہے، اُس کا تعلق سِندھ سے لے کر بنگال تک کی 528 دیسی زبانوں سے کسی بھی زبان سے نہیں ہے۔ یہ زبان جلدی ہی مُردہ ہو گئی ۔ یہ جو نِکھری ہوئی زبان سنسکرت بنائی گئی، اور جو عملاً عوام میں چل نہ سکی اور یُوں مُردہ ہو گئی، آخر اُس کی وجہ کیا تھی ؟  آریاؤں نے ویدک بھاشا کو تو متبرک سمجھ کر عوام میں اس کو رائج نہ کیا ، مگر اس برصغیر کے مذکورہ وسیع خطہ میں یہاں کے اصلی باشندے خود اپنا زبانوں کا ایک وسیع خاندان رکھتے تھے جو آجکل 18 بڑے  گرہوں میں بٹا ہوا ہے، اور اُن سب زبانوں کی نحو (Syntax)  کی ترتیب (order) کا حصہ کافی حد تک مِلتا جُلتا ہے۔ آریاؤں کی آمد کے بعد، سنسکرت ایک ایسی زبان گھڑی گئی جس میں تمام دیسی زبانوں کے تقریباَ ہم معنی الفاظ کو ویدک بھاشا کے کسی نہ کسی مادہ (root) کا رنگ دے کر سنسکرت میں شامل کر لیا گیا۔ اس کی ایک شاندار مثال R.L. Turner کی  Indo - Aryan Languages کی ڈکشنری ہے جس میں ایسے 14845 سنسکرت ماخذوں کے معنی دے کر اُن کے تحت دیسی زبانوں کے ہم معنی الفاظ کو معمولی سے اصواتیاتی فرق سے یُوں درج کیا گیا ہے جیسے کہ وہ تمام دیسی زبانوں کے الفاظ سنسکرت ماخذوں سے اخذ کئے گئےہیں۔ حالانکہ بات اِس کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ  ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ آریاؤں نے مختلف دیسی زبانیں بولنے والوں کو کہا ہو کہ ہمارے فلاں ماخذ سے یُوں یُوں اصواتیاتی فرق سے اپنے ہاں تقریباً ایک ہی معنوں میں لفظ رائج کر لو،  یا  تمام دیسی زبانیں بولنے والوں نے اتفاق کر لیا ہو کہ چونکہ ہمارے ہاں اِن معنوں میں کوئی لفظ نہیں ہے اس لئے ہم سب فلاں سنسکرت ماخذ سے قدرے اصواتیاتی فرق سے اپنے ہاں یہ لفظ رائج کر لیں گے۔ یقیناً یہ خود آریاؤں کی ضرورت تھی کہ کسی طرح یہاں کے باشندوں کے مُشترک   الفاظ کو سنسکرتائی شکل دے کر استعمال کیا جائے، کیونکہ دیسی زبانوں کے ایسے الفاظ جو ہندی میں مستعمل ہیں مگر سنسکرتائی ہوئی شکل اختیار کرنے سے رہ گئے ہیں، اُن کو دیوناگری رسم الخط میں لِکھّی ہوئی ہِندی کی کسی لُغت میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، جہاں اُنہیں تَت سم  یا  تَدبھو  نہیں بلکہ محض "دیسی" لفظ کا لیبل لگا دیا گیا ہے۔

یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ دیسی زبانیں الفاظ کے سلسلہ میں ویدک بھاشا سے متاثر نہیں ہُوئیں بلکہ سنسکرت نے خود کئی دراوڑی الفاظ کو اپنے اندر سمو لیا جن کی فہرست  T. Burrow نے اپنی کتاب The Sanskrit language کے   1973ء کے ایڈیشن میں دے دی ہے۔ غرضیکہ سنسکرت زبان ایک نِکھری ہوئی مگر بناوٹی زبان ہونے کی وجہ سے مُشکل بھی، رواج نہ پا سکی۔ یہ زبان مُردہ نہیں ہوئی بلکہ یُوں کہیئے کہ یہ رائج نہ ہو سکی۔ یہ زبان تو کبھی زندہ ہوئی ہی نہیں، کیونکہ زندہ وہی زبان کہلاتی ہے، جس کے بولنے والے ایسے موجود ہوں، جن کی سوچ کی زبان بھی وُہی ہو۔ اس سلسلہ میں یہ بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ ایک زبان اگر مُردہ ہو جائے یعنی اُس کے اہلِ زبان صفحٔہ ہَستی سے اوجھل ہو جائیں ( چہ جائیکہ وہ مذہبی رنگ میں مستعمل رہے یا لِسانی شکل میں پڑھائی جاتی رہے) تو دوبارہ اُس کو زندہ کرنا نا ممکن ہے۔ زبان کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) ہو نہیں سکتی۔ اگر اُس کو دوبارہ رائج کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو یقیناً وہ جدید زبان ہو گی، جو کہ قدیم زبان سے ایک علحٰدہ زبان ہو گی۔

انگریزی اصطلاحات کے ترجمہ کے سلسلہ میں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ جس طرح  Phonology کو صَوتیات اور Phonetics کو اصواتیات کہ کر فرق کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، اِسی طرح Philology کو ادبیات اور  Linguistics کو لسانیات ( علمِ زبان) کی اصطلاحوں سے فرق کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا "لِسانی" سے مراد محض زبان کا مسئلہ وغیرہ ہو گا، مگر  " لسانیاتی" سے علمِ زبان کی موشگافیاں وغیرہ سمجھا جائے گا ۔ Linguist  سے مراد ہفت زبان (Polyglot)  کے علاوہ ماہر لسانیات  یا  طالبعلمِ لسانیات ہی سمجھا جائے گا۔ اِس کا آخری فیصلہ البتہ قومی زبان پر ہے۔

لہٰذا اِس اِنڈک شاخ کو ہمیں ایک علحٰدہ پاک و ہند خاندان تصور کرنا ہو گا اور یُوں زبانوں کے بڑے بڑے خاندان تعداد میں 19 سے بڑھ کر بیس بن جائیں گے۔ اگر کسی کو اس استدلال پر متفق ہونے سے گریز ہو اور وہ پُرانی ڈگر پر ہی قائم رہنا چاہے ، تو کم از کم زیرِ نظر عنوان جس پر ہمیں آگے بات کرنی مقصود ہے، کے لئے کُچھ فرق نہیں پڑتا۔

اس پاک وہند خاندان کے 18 بڑے گروہوں میں سے ایک گروہ  "پنجابی " کہلاتا ہے، جس کی بولیوں ، ذَیلی بولیوں (sub dialects) ، فرعی بولیوں (form of dialects)  اور علاقائی بولیوں (local dialects) کی کُل تعداد 70 سے زیادہ بنتی ہے ۔ ( نقشہ  ، پنجابی کی بولیاں، بولیاں

آریاؤں کی آمد سے پہلے جو قومیں اس برصغیرمیں وارد ہوئیں ، اُن کی زبانوں سے متعلق چند ایک باتیں بیاں کر دینا دِلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔

1- تُورانی ( جو کہ آجکل اُورال آلٹیک خاندان کی زبانیں بولتے ہیں ) میں سے جو کہ کوہ قاف کے علاقہِ سے تعلق رکھتے تھے اور جن کا بعد میں نِیگرائِیٹو سے امتزاج ہوا جب اِس برصغیر میں آئے تو دراوڑ کی نسبت سے دراؤڑی کہلائے۔

2- یہی دراوڑ جب منگول اور سیتھی نسلوں سے مخلوط ہوئے تو منگولی دراوڑ ( مثلاً کول) اور سیتھی دراوڑ ( مثلا ً مرہٹا) کا ظہور ہوا۔

3- کول حقیقت میں آسٹرک خاندان کی زبان سے تعلق رکھتے ہیں ، اِن کے ورُود کے بعد اس برصغیر میں دراوڑی چھا گئے اور گُھل مِل کر اپنی تہذیب کو پھیلایا۔

4- جس طرح بِھیل ( جو کہ آسٹرک ہیں ) اپنی آسٹرک خاندان کی زبان کی بجائے آجکل آریائی زبان گجراتی کی بِھیل بولیاں بولتے ہیں ، اسی طرح براہوی، گونڈ اور اوراؤں حقیقت میں کول تھے، مگر بعد میں دراوڑی زبانیں بولنے لگ گئے۔

5- وادئ سِندھ کے لوگ :-  بارھویں صدی قبل مسیح میں ڈورسی  یلغار سے پہلے یُونانی سر زمین کے ہلیڈی تمدن (1100 سے 2500 ق م ) کے ہم عصر اس سے بھی پُرانا تمدن ( 1100 سے 3000 ق م ) بحیرۂ ایجین کے علاقہِ کا تھا ، اس ایجین تہذیب و تمدن کا علمبردار خاص کر جزیرہ کریٹ کا میعنی کلچر تھا جس کا پہلا دَعر 5000 سے 2100 ق م کا تھا، وسطی دَور 2100 سے 1600 ق م رہا ( جب کہ سائیکلیڈی وغیرہ متفرق کلچر بھی چل رہے تھے) ، اور تیسرا آخری دَور 1400 سے 1100 ق م تک جو کہ حقیقت میں مائِیسِینی (اخیانی) کلچر ہی کی شکل تھی۔

اِسی آخری دَور میں کریٹ والوں نے اپنی کِنونی ہِیروغلیغی کی لکیر دار شکل کی لکھوائی بنا لی تھی۔ وادئ سندھ کے تمدن میں اسی لکھائی کی جھلک پائی جاتی ہے، مگر ابھی تک کریٹ اور سِندھ دونوں خط پُوری طرح پڑھے نہیں جاسکے۔ کریٹ کی اس لکھائی کی تقریباً  70 شکلیں بعینہ وُہی ہیں جو کہ مِصری لکھائی میں ( 2500 ق م  سے شروع ہو کر ) پائی جاتی ہیں ۔ یہاں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ معینی اور مصری ہِیروغلیغی دونوں اپنی علامات اور شکلوں میں ایک ہی منبع رکھتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ وادئ سندھ کے لوگ اس برصغیر میں نقل وطن کرنے سے قبل مصر  یا  کریٹ سے تحریر کا طریقہ سِیکھ کر آئے ہوں۔

مُمکنات میں سے ایک دُوسرا غالب پہلو یہ ہے کہ 4000 ق م میں سومر اور اکاد  پر دیگر تہذیبوں کی گرفت آنے سے قبل، قدیم کلدانی جو کہ بابل پر برسراقتدار تھے ، مصر سے آتے ہوئے وہاں کا خط تمثال ( تصویری خط) کو 4300 ق م میں اپنے ساتھ لے آئے ہوں۔ اور پھر کلدانیوں سے وادئ سندھ والوں نے اپنے نقل وطن کے سفر کے دوران یہ خط اپنے ساتھ لے آئے ہوں، جبکہ پُرانا رائج شدہ لکیردار خط سومَر والوں نے ابھی میخی خط کی شکل میں نہ ڈھالا ہو۔ بایں وجوہ ہمیں یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ قدیم سِندھی خط ، سومَر خط سے مشابہ ضرور ہے مگر اُن کے حروف کی اصواتی قِیمتیں سومَر والوں سے مختلف ہیں۔

وادئ سندھ کی قدیم تہذیب پر جب انگریزی روزنامہ ڈان کراچی میں بحث چلی تھی، تو شاعر غلام مصطفٰے کے اختتامی مضمون ( جو کہ ڈان اخبار میں 23 جون 1959ء میں چھپاتھا ) پر میں  (سردار محمد خاں )نے جو نوٹ لکھا تھا اُس کا متن درج ذیل ہے :--

Script in use by the ancient Indus valley people:-

Prior to the Dorian invasion in the 12th BC there existed apart from & nearly concurrent with Helladic culture ( 2500 to 1100BC ) of the Greek mainland in the prehistoric Bronze age an even much older civilization (3000 to 1100 BC) of the islands of Aegean sea. This Aegean civilization was represented chiefly by Minoan culture of Crete island, the rulers of whose chief ancient city "Knossos" were called "Minos" . The early division of this Minoan  culture ranged from 5000 to 2100 BC, & the middle phase lasted from 2100 to  1600 BC during which period also flourished minor civilizations like Cycladic etc.)The third & the last phase (1400 to 1100 BC ) was virtually identical with Mycenaean civilization which had Crete or Candia as one of its principal seats.

It was during this period that the Cretans had evolved their own Kinoan hieroglyphy especially the linear script, & Dr. F. Hrozny points out an affinity of this very script, with that of the ancient Indus valley. None of these two scripts has as yet been fully deciphered, but professor Evans has pointed out as exact similarity of at least 70 engraved symbols on gems & seals discovered in Crete island of that period with those which seem to be embossed in archaic pictographic script & later on in phonetic syllabery ( from 2500 BC onwards ) on Egyptian scarabs discovered of the time of Dynasties XII & XIII of ancient Egyptian kings. This shows that the Minoan hieroglyphy had its common origin & use with that of Egyptian hieroglyphy had its common origin and use with that of Egyptian hieroglyphy in its conventional signs & symbols.

There is thus a possibility that the script adopted the people inhabiting the ancient Indus Valley was borrowed either from the Egyptians or from the Cretans.

Another highly probable possibility is that the ancient Chaldeans ( who were the rulers of "Babylons" prior to the occupation of Sumer & Akkad by two different groups of people in 400 BC) might have taken away with them the Egyptian script in its pictographic stage during the reigns of the first chain of Egyptian kings in 4300 BC, & from there the "Harrappans" (while still outside this subcontinent) had adopted the use of this script prior to its already existing lineal shape having been moulded by the rulers of Sumer to a cuneiform why of writing by the stylus. This may also be the reason why ancient Sindh alphabet shows a similarity with the Sumerian alphabet, but has different phonetic values.

پروفیسر احمد حسن دانی نے تبصرہ فرمایا ہے کہ احمد سلیم نے اسلام آباد کے انگریزی اخبار  The Muslim کے 30 مئی 1980ء کے پرچہ میں وادئ سندھ کے رسم الخط پڑھنے میں قریبی سالوں میں جو کوششیں ہوئی ہیں، اُن کا جائزہ جمع کر دیا ہے۔ اِس جائزہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ڈاکٹر اَیس  آر  راؤ ( جس نے 15 نومبر 1979ء کے  India Foreign Review  میں یہ ثابت کیا ہے کہ وادئ سندھ کی زبان  پُرانی ہِند آریائی ، رِگ ویدی  کے آغاز کی شکل ہے )  کے اِس رسم الخط کو پڑھنے کے دعویٰ کی تفصیل کو ڈاکٹر غلام علی الانا نے بھی مُسترد کر دیا ہے۔

یہاں پر پنجابی زبان کی مختلف بولیوں کے نمونے دینے یا اُن کے قواعدی فرق کو دِکھانا مطلوب نہیں ۔ سرجارج گریرسن کی کِسانی سروے میں تفصیل سے اِن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ صرف ایک دو نمونے سرایئکی ہِندکی اور پشاوری ہِندکو کے نقل کئے جاتے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کس طرح عام پنجابی بولنے والا تھوڑی سی کوشش سے اِن نمونوں کو سمجھ سکتا ہے، اور یُوں اِن کو پنجابی کی قسم  ہی قرار دینا صحیح ہو گا۔ مندرجہ بالا تفصیل سے یہ دلیل از خود رفع ہو جاتی ہے کہ " آئے تو ہم (آریا) پشاور پہلے اور سندیسہ ملے لاہور والوں سے کِہ ہم اُنکی زبان کی بولی بولتے ہیں"۔

سرائیکی ہِندکی جس کا نمونہ ظفر لشاری کی ناول "پہاج " ( صفحہ 359) سے لیا گیا ہے۔ اس کو پاکستان پنجابی ادبی بورڈ لاہور نے دسمبر 1983ء میں چھاپا۔ مصنف کی یہ مادری زبان ہے، اور یہ وہی زبان ہے جس کو ڈاکٹر غلام علی الانانے اپنی کتاب " سنڌﻲ ېولئَ جي لساني جاگرافي" (طبع شدہ اِنسِٹیِٹُو ٹ آف سِندھالوجی ۔ جولائی 1979ء) میں نقشوں سے دیکھایا ہے کہ کس طرح اس زبان کے بولنے والوں کا سندھ پر تسلط رہنے کی وجہ سے سندھ کے ہر ضِلع میں کتنے فی صد لوگ اب تک یہ زبان بولتے ہیں۔ یہی وہ زبان ہے جو کلھوڑا اور ٹالپرُکے سردار بولتے تھے، اور شمالی خِطہِ کی زبان ہونے کی وجہ سے پاکستان بننے کے بعد اس کو سرائیکی (اسورکی ) کے نام سے مشہور کیا جا رہا ہے۔ مگر حقیقت میں سِندھ کے شمالی خِطہِ کو "سرو" کہتے ہیں اور وہاں کے رہنے والے "سِرائی" کہلاتے ہیں ، جِن کی سِندھی زبان کی بولی کو گریرسن نے " سِرائِکی "  یا  "سرٔیکی سِندھی" کا نام دیا ہے۔ گو اب اِسے سریلی کہتے ہیں۔

" رشیدے خاں کڈوکنا میڈے پِچھّوں لگا کھڑے۔ سانول واسطے اوہ تیڈا رشتہ منگدے۔ ڈس میں اوں کُوں کیا ولدی ڈیواں ۔۔۔۔۔۔؟ رضیہ اوں دے بیا نیڑے تھی تے وڈی راز داری نال گالھ کیتی تے ما دی گالھ سُن تے ہِک لحظے وِچ، اوں دے من موہنے چہرے تے، کئی فجریں دِیاں رتانجنِیں پھر گئیاں۔ اوں نازک وجود ، نازاں بھرں نازو۔ حیا والیاں اکھِّیں نال ما  دو ڈِٹھّا تے نازک نازک ہوٹھاں وِچّوں تِلکدی ہوئی مُسک اگّوں بوچھن دا اوہلا کرتے سر نو ایُس چا۔"

پشاوری ہِندکو کا نمونہ "ہِندکو قوعد" (صفحہ30) از مختار علی نیرّ ( 1976ء) سے لیا گیا ہے۔ اور وہ یُوں ہے:-

"ہندکو زبان دی تاریخ اپڑی جگہ اہِک بڑا  وڈا مضمونے ۔ اگر زِنگی نے وفا کِیتی تا انشاءاﷲ تعالے  ٰ قدیم لسانی نقشے تے مزید تفصیل دے نال کتابی صُور تے چ ضرور پیش کرساں۔ کیونکہ ہون او وَخت آ گیا یے کہ ہر زبان نُو اُزا جائز مقام مِلے۔ اے مختصر ترین جئی ہِندکو  زبان دی تاریخ جیڑی مَنے چند صفیا چ پیش کِیتِیئے، اے صرف اہِک مختصر جِیا تعارفے جیڑا اِس موقعے تے منے ضروری سمجھئے۔ منو اُمیدے کہ ہِندکو زبان نال محبت رکھنے والے ہِندکون میری اِس مِحنت کولو ضرور فیدہ لیسن۔"

پنجابی زبان کے علاقہِ کےبیرونی دائرہ کی بولیاں (peripheral languages)کی مزید تفصیل ملاحظہ ہو ۔ 1879ء کی shirt کی لکھی ہوئی The pocket Sindhi English Dictionary میں لفظ "سِرو"  کے معنی   "The province of Sind north of Sehwan" درج ہیں ۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ نے اپنی سندھی اردو لغت میں بھی اس کے معنی " سندھ کے شمالی خطّہِ سِرو کی زبان" دئے ہیں ۔ سر جارج گریرسن نے اپنے نقشہ میں سندھی کی بولی سرائیکی کو اسی خطہِ میں دکھایا ہے، جس کا بیرونِ سِندھ اثر بھی ہے جیسا کہ نقطہ دار لکیر واضح کر رہی ہے۔

سردار محمد خاں کے ہاتھ سے بنایا ہیا۔

اس سرائکی کے بولنے والے بلوچستان میں سِبّی کے علاقہِ تک پائے جاتے ہیں۔ مگر مظفر گڑھ کی ہندکی ( نمبر 428) کی جغدالی بولی جو بلوچستان کے ملحقہ علاقہِ میں بولی جاتی ہے، اُس فرعی بولی کو جٹکی لہندا کہا ہے۔ خصوصا “ فورٹ مَنرو اور کوہلُو کے درمیانی علاقہ کھجُوری، بارخان اور وٹوکری وغیرہ میں مظفر گڑھ کی ہِند کی  کی فرعی بولی کھیترانی اور جعفری ( 430) بولی جاتی ہے ۔ البتہ سرائِکی بولنے والے صوبہ پنجاب کے جس علاقہِ (رحیم یار خان سے ولہار تک) میں پائے جاتے ہیں ، وہاں مظفر گڑھ کی ہِندکی فرعی بولی اُبھیچی یا سرائِکی ہِندکی (نمبر 429) ہے، جِسے ریاستی یعنی بہاولپوری ( نمبر 426) والے "لموچی" کہتے ہیں۔

پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد البتہ ناموں میں تبدیلی ہو گئی ہے سِندھی سرائِکی بولی کو "سِرو" ماخذ سے ہی سریلی کہنا شروع کردیا ہے ( گو ڈاکٹر بلوچ کی لُغت میں ابھی یہ لفظ نہیں آیا)، اور اُبھیچی کو سرائِکی کا نام دے دیا گیا ہے، بلکہ ڈاکٹر بلوچ کی لُغت میں تو اِس کا دائرہ بڑھا کر بہاولپور اور ڈیرہ غازی خاں والے شمالی خطہِ کی زبان لکھا ہے ( گویا صوبہ سندھ کا " شمالی خطہ" اب صوبہ سندھ کے باہر کا  "شمالی خطہ" بن گیا)

ہِندکو ( پشاوری  یا  کوہاٹی) کا زیادہ تر فرق صرف عام تلفظ کا ہے، بلکہ لِکھنے میں تلفظ کرنا اور زیادہ مشکل ہو گیا ہے، مثلاً :-

عام تلفظ :-  بَھیڑا ۔ گِھیو ۔ پڑھایا ۔ گھر ۔ جُھوٹھا ۔ احمق ۔  شہر ۔ بہت ۔ جِہنُوں

ہندکو تلفظ :-  پَیہڑا ۔ کہیو ۔ پڑآیا ۔ کہار ۔ چہوٹھا ۔ ایمخ ۔ شیر ۔ بوت ۔ جنوں

اِس کے علاوہ پشتو کے چند الفاظ اس میں در آئے ہیں ، مثلا ً  بندریا کے لئے بُوجو۔ یا پشتو کا لہجہ تلفظ پر حاوی ہو گیا ہے ، مثلا ً لفظ  "اَور" کی مرکب حرکت نہ پڑھ سکنے کی بجائے "اور" یا پھر پشتو کا ذخیرۂ الفاظ اثر کر گیا ہے مثلا ً چچا اور تایا کا فرق بتانے کے لئے ہندکو میں کوئی علحٰدہ لفظ نہیں ہے۔

مشرقی پنجابی (گریرسن کے مطابق) :-  گو پنجابی کا اصل تو لہندا زبان ہے، مگر مشرقی پنجابی نے اردو زبان کا اِتنا زیادہ اثر لیا ہے کہ پنجابی کے اپنے مخصوص لفظ ہوتے ہوئے بھی ہم اُن کو بولنے میں فوراً ذِہن میں نہیں لا سکتے، لہٰذا بغرض آسانی اردو  ردِّ بدل سے کام چلا لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پنجابی زبان کا اپنا  shibboleth بھی ہے، جس کو تلفظ میں گمک یعنی  Tone کہتے ہیں ، مثلا ً الفاظ ڈھول ، بُھلّ، گھاہ (بمعنی گھاس) ، وغیرہ میں گمک جو کہ تمام پنجابی علاقہ میں کسی نہ کسی رنگ میں پائی جاتی ہے، مگر اردو کا رنگ بالکل مختلف ہے۔

انگریزی میں Restructuralization کے متضاد  relexification اصطلاح ہے، یعنی ایک زبان کے لفظ (یا مجموعۂ الفاظ) کی بجائے دوسری زبان کے لفظ (یا مجموعۂ الفاظ) کو رکھ دینا مگر قواعدی سلسلہ جُملہ ماحول کا وہی قائم رہے، مثلاً  شرف الدین اصلاحی کی کتاب "اردو سندھی کے لِسانی روالبط " کے صفحہ 430 پر ذکر ہے کہ نحوی طور پر اجزائے کلام کی ترتیب میں سندھی اور اردو اس حد تک ہم آہنگ ہیں کہ نثر تو نثر بسا اوقات اکثر نظم کے اشعار کا ترجمہ کریں تو بھی ترتیب بدلنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اس کے مقابلہ پر پنجابی اس سے بھی بڑھ کر مثال پیش کرتی ہے ، کہ اِن کو پڑھ کر پنجابی اور اردو دونوں اپنے ادب کا کارنامہ سمجھتے ہیں ۔ اشعار  ملاحظہ ہوں:-

اِک اِک پَل سمجھایا                پر دِل  باز    نہ   آیا
آخر شکوہ   کر     کے                 کوئی   کیوں   پچھتایا
جو   بِیتی  سو   بِیتی                جو   پایا      سو   پایا
تیری  خواہش    توبہ                ناحق    جی      ترسایا
کر کے جتن سب ہارے                تیرا    اَنت   نہ  پایا
غم    میرا      سرمایہ                غم     میرا  ماں جایا
طارق ناز کرے  دِل
ہو  کے   مال    پرایا

یہاں یہ بات ہر وقت مدنظر رکھنی چاہیئے کہ لسانیات میں جب کبھی کوئی لسانیاتی جائزہ لیا جاتا ہے تو چھوٹی سے چھوٹی مقامی بولی کو بھی "زبان" کا درجہ رکھ کر مطالعہ کیا جاتا ہے، حالانکہ بات واضح ہے کہ زبان اور اس کی بولی میں فرق صرف اِتنا ہوتا ہے کہ ایکدوسرے کو سمجھنے کے لئے معمولی سے فرق کو جان لینے اور مقامی الفاظ کے معانی جان لینے کے بعد فوراً مفہوم ایکدوسرے پر واضح ہو جاتا ہے۔

بعض اصطلاحات ایسی ہوتی ہیں جو کہ قواعد میں کچھ اور رنگ میں استعمال ہوتی ہیں ، مگر لسانیات میں اپنا واضح مطلب کچھ اور رکھتی ہیں ، مثلاً کسی لفظ کا ہجاء کرتےوقت جس حرف پر حرکاتی نشانی ( زبر، زیر، پیش) ہو، اُس کو متحرف کہتے ہیں، ورنہ اُسے ساکن قرار دیا جاتا ہے، اور ایک ساکن کے بعد دُوسرا ساکن حرف آ جائے تو دوسرے کو موقوف کہتے ہیں مثلا ً لفظ "جان" میں جِیم متحرک، الف ساکن اور نُون موقوف ہے، مگر لسانیات میں اصلیت واضح کی گئی ہے کہ الف حرکاتی حرف ہونے کی عجہ سے ساکن ہو نہیں سکتا، لہٰذا اس لفظ "جان" میں جِیم کے بعد حرکت ہے اور نُون ساکن ہے۔

اسی طرح عربی  کی ابجد میں چونکہ حرکاتی حرف کوئی نہیں ہوتا بلکہ تمام حروفِ صحیح ہوتے ہیں، اِس لئے حروف  ا۔و۔ی کی کھڑی زبر، زیر ، پیش کی آوازیں نِکالی جانے کی وجہ سے ان کو قواعد میں حروف عِلّت کہا جاتا ہے، جس کا عام ترجمہ  Vowel کیا جاتا ہے۔ مگر اردو ، پنجابی وغیرہ میں  Vowel کو حرفِ علت کہنا درست نہیں ہو گا، کیونکہ اردو اور پنجابی میں مثلاً صرف "کُو" کی آواز ہی نہیں ہوتی بلکہ "کو" (مجہول آواز) اور کَو ( مرکب آواز) بھی ہوتی ہیں۔

سنسکرت میں  Bloomfieled کے ابتدائی تجزیہ کی اصطلاحوں کے مطابق :-

سُوَر = حرکاتی حروف  (vowel letters) + مُصمتے (syllabic Contoid)
اور
    وَینجن = حروفِ صحیح  (Consonant letters) + مِثل مصوت (non - syllabic vocoid) ۔

سب سے نمایاں مثال قواعدی اصطلاح "مصدر" کی ہے ، جس کے آخر پر مصدری علامت ہوتی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر لفظ جو اس مصدری علامت پر ختم ہو، وہ مصدر ہی ہوتا ہے، بلکہ انگریزی میں تو مصدر کو بغیر مصدری علامت "it" سے بھی استعمال کرتے ہی ، مثلاً  You shall goیا  I will go میں "to go" کی جگہ صرف  "go"  بولتے ہیں (ملاحظہ ہو :- A practical English Grammar by A.J. Thomson & A.V. Martinet-Rule 240 2nd Edition)

عربی میں بُنیادی فِعل کی اِکائی  کَتَبَ  کو لے لِیجئے ، اس سے مصدر  کَتَبٌ  بنا، مگر دیگر الفاظ کتبٌ  سے نہیں بنتے، بلکہ تِین بُنیادی حروف  کاف، تا  اور با سے بنتے ہیں۔

فارسی میں بھی فِعل کی اِکائی مصدر کی نشانی ( "دن" یا  "تن" کا ) نُون اُڑا کر ہی بنتی ہے، گو مستثنےٰ  حالتوں، مثلاً مضارع میں، بُنیادی فِعل کی اِکائی کے حروف ( سوائے پہلے حرف کے) تبدیل بھی ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح اردو اور پنجابی میں مصدر کی نشانی سے نہیں بلکہ صیغہ امر  ہی فِعل کی اکائی ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کسی اسم سے فعل بنانا ہو تو پہلے مصدر نہیں بلکہ صیغہ امر بنے گا، مثلاً   "نظر" ہی ہو گا اور پھر مصدر کی نشانی "نا" لگا کر نظرنا" بنے گا، مختصراً یہ کہنا مقصود ہے کہ مصدر گو خود صیغہ امر سے بنا اور یوں مصدر سے دیگر کلمات نہیں نکلتے، بلکہ یُوں کِہیئے کہ مصدر پُورے کا پُورا کسی بھی منصرف فعل (finite verb) کی بناوٹ میں نہیں آتا، مگر پھر بھی یہ سب کچھ قوائد میں آخر کیوں بظاہر متضاد معنوں میں مصدر کی اصطلاح گھڑی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ قوائد نویسوں کو ایک پِدری حیثیت کے مثالی تصور کا لفظ درکار تھا، جو کام کے واقعہ ہونے کے معنوں میں ایک عمومی تخیل پیش کرنے والا نہیں ( مثلاً صیغہ امر) بلکہ فعل کے عمل کو کسی حد تک مجسم کر کے پیش کرنے والوں کے معنوں میں سب پر مُورثِ اعلیٰ کی طرح حاوی ہو، اور وہ یہی مصدری نشانی والا لفظ چُنا گیا۔ یہ چُناؤ بھی اس کی فعلی صفت کو بطور غیر منصرف فعل (infinite verb) کے  استعمال سے عمل میں لایا گیا ہے۔ اس  لئے مصدر کو لُغت میں بطور لازم یا متعدی وغیرہ بھی دکھایا جاتا ہے، حالانکہ یہ مصدر کی صفت نہیں ہے کہ وہ لازم ہے یا متعدی۔ بلکہ سندھی زبان کی قوائد میں تو بنیادی فعل سے ہی دیگر افعال وغیرہ بنانا سکھایا جاتا ہے ، نہ کہ اردو کی طرح یہ کہ پہلے مصدر کی علامت اُڑائی جائے اور پھر دیگر افعال بنائے جائیں۔

محمد آصف خاں نے مصدر کا جچواں تُلواں پنجابی مترادف لفظ " کڽ" استعمال کر کے مصدر نامہ کی طرز پر جو " کڽ لیکھا" کتاب پنجابی ادبی بورڈ لاہور والوں نے چھاپی ہے، اُس میں بنیادی طور پر صیغہ امر کو  ہی اپنایا ہے، مگر چونکہ بنیادی فعل میں آخر پر یگانگت نہیں ہے، اس لئے " کڽ لیکھا" کے لُغتی اندراج میں یکسانیت پیدا کرنے کے لئے اور مصدر کے بظاہر متضاد معنوں کی اُلجھن سے بھی بچنے کےلئے اُن کے آخر پرنُون زائد لگا دیا ہے، جو کہ پنجابی میں فِعل کی صرفی گردان کا صیغہ جمع ہے۔ اِس شکل میں لُغتی اندراج دینے سے لازماً اُن کے معنی بھی اسی جمع کی فِعلی حالت میں دینے پڑے ہیں۔ پنجابی اردو روابط کو دیکھا جائے تو " پڑھیں۔ پڑِھڽ" اور پڑھائیں۔ پڑھاوِڽ" کی اصواتی مماثلت میں فرق صرف نُون غُنّہ (اردو) اور نُون سالم (پنجابی) کا ہے۔

اردو کی "جامع اللغات" (چار جِلدوں میں ) میں بھی حتی الوسع فِعل کے صیغہ امر کو ہی اکائی مان کر معنی دئے گئے ہیں۔ الفاظ کے معانی ہمیشہ صرف ونحو سے متعین ہوتے ہیں، مگر نحوی ترکیبوں سے معانی کی تفصیل ہماری دیسی لُغات میں بہت کم مِلتی ہے۔

مُستشرقین نے  یہ مقولہ رائج کیا تھا کہ رسم الخط مذہب کے جھنڈے تلے پھیلتا ہے، اور پھر اس سے نتیجہ یہ نکالا تھا کہ  یُوں عربی خط ہمارے برصغیر  کی زبانوں پر غیر موزوں ہونے کے باوجود مسلط کر دیا گیا۔ یہ عربی خط کی نشو ونما روکنے کے لئے ایک شہرت دینی والی حرکت تھی، جس نے ابھی تک ہمارے ذہنوں کو گرفت میں لیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شمالی کتبوں کی لکھائی سندھی زبان کے لئے رائج تھی جس کا ثبوت جاپان کی چَھٹی عیسوی کی ایک کتاب سے مِلتا ہے، مگر جو عام رواج عربی  نسخ خط کا سندھی زبان پر تھا وہ انگریزوں نے بھی تسلیم کر کے سندھی کے لئے عربی خط کا ہی چُناؤ کیا ( مگر  "د" اور  "ڈ" کے گُھٹویں تلفظ میں فرق نہیں کیا ۔ شاید اس کئے کہ گو ان کا مقام نطق علحٰدہ، مگر سماعی طور پر زیادہ فرق نہیں )۔ بہر حال ہندی رسم الخط کے پرچارک لاشعوری طور پر ہمیں متاثر کرتے رہے ہیں۔ ترقیٔ  اردو بورڈ کراچی والوں کو بے انتہا سمجھانے پر بھی اُنہوں نے اپنی لُغت کے لئے اردو ابجد کی ترتیب میں الف کی تختی کے بعد  "آ" کا حرف علحٰدہ داخل کر دیا ہے۔ مزید برآں مخلوط الہا حروف چونکہ ہندی خط میں علحٰدہ مفرد شکلیں رکھتے ہیں ، اس لئے لُغت میں متعلقہ پٹاخی حروف کے بعد ابجد میں اُن کی مخلوط الہا شکلیں بھی داخل کردی ہیں ، حالانکہ ہمارے ہاں مجہورہ مخلوط الہا شکل  مفرد حرف نہیں بلکہ دو حروف کا مرکب ہوتا ہے  ( ڈاکٹر نبی بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ سندھی ابجد میں " جھ" اور  "گھ" کے لئے علحٰدہ حروف اس لئے نہیں ہیں کیونکہ ان میں مکمل ادغام نہیں ہے )۔اس لغلط حرکت کے لئے سہارا صَوتیہ (Phoneme) کے غلط تصور کا لیا  جاتا ہے۔ لسانیات نے تو اپنے تجزیہ کے لئے صَوتیہ کی نشاندہی کی۔ اس کی مدد سے ابجد نہ رکھنے والی زبان کے لئے موزوں تریں ابجد بنانا آسان ہو گیا۔ مگر ہم نے اپنی ابجد کو بگاڑنے کے لئے صَوتیہ کا  زندہ ابجدوں کو ٹھیک کرنے کا آلہ کار سمجھ لیا، بلکہ یہاں تک کہ چونکہ ہم عربی حروف کا صرف صوری احترام کرتے ہیں اور اصواتی احترام سے معزور ہیں ، اس لئے ایسے حروف کو زائد سمجھ کر ابجد سے نکال دینا چاہئے۔ انگریزی کے اہل زبان کو تو اتنا ہوش نہ آیا کہ Thin  اور Then  میں th  دو مختلف صَوتیے (ث اور ذ) ہونے کی وجہ سے ان کے لئے انگریزی ابجد میں th  کا مرکب حرف رکھ لیں، مگر یہاں تقلید کے پرستاروں نے بغیر سوچے سمجھے اپنی ابجد کو مالامال کر دیا۔ صَوتیوں کی نیرنگی ملاحظہ ہو کہ اردو کا  فِقرہ " فیاض صاحب کیا آپ نے مرزا غالب کی فلم دیکھی ہے، بڑی مزیدار ہے " کو   "پھیاج صاحب کیا آپ نے مِرجا گالب کی پِھلم دیکھی ہے، بڑی مجے دار ہے" کی طرح بولا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جوڑ والی لکھائی ( مثلاً اردو کی تقطیعی لکھائی) دائیں سے بائیں طرف لکھے جانے کے باعث، باوجود  زود نویس ہونے کے محدود اور ترقی سے محروم رہتی ہے، مگر حرفی خط ( مثلاً  پورپی زبانوں کا ) جو کہ بائیں سے دائیں طرف لکھتے ہیں ہمیشہ رواں ہوتے ہیں ، لہٰذا  اردو کی ترقی کی راہ میں اس رُکاوٹ کو دُور کرنا چاہئیے ۔ اردو کے مخلوط الہا حروف کے سلسلہ میں یہ بات قابل غور ہے کہ آج  تک یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ مخلوط الہا آوازیں کتنی قِسموں کی ہیں، اور نہ کوئی اصول وضع کئے گئے ہیں کہ ان قسموں کے لئے دو چشمی  ہاء  یا   آویزہ  دار  ہاء کس طرح استعمال کی جائے۔

کسی زبان کے خط ی قسم کو تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، کیونکہ رسم و رواج کے دلددہ انسان اس طرح جکڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ مثلاً  ہِیر و غلیفی خط کی بھاری بھر کم لکھائی میں ہزاروں سال لِکھتے رہے، ورنہ کم از کم 5 ہزار سال پہلے ابجد قسم کی لکھائی اپنا  چُکے ہوتے۔ یُوں سمجھو کہ وہ اتنی جرأت بروئے کار نہ لا سکے کہ اس پاڑ کے بانس اور تختے اُتار پَھینکتے جس کی مدد سے وہ شاندار عمارت کھڑی کرسکے۔ یہی جمُود ایک اور شکل میں ملاحظہ ہو۔ مصری ہِیروغلیفی میں اندازا ً 600 سے زیادہ نشانیاں تھیں، جس میں ایک ہی آواز کی کئی کئی شکلیں رائج تھیں ، اور لکھنے کے تمام اصول مِل جُل کر استعمال ہوتے تھی اور مدتوں ہوتے رہے۔ یُوں سمجھو کہ اتنی بڑی تعداد میں بیساکھیوں کی ضرورت سمجھی جاتی کہ چلنے پھرنے کا فَن انتہائی تکلیف دہ ہو جاتا ، اور ایک قسم کی ابجد تیار کرنے میں ایک مُدت درکار ہوئی۔ ( ملاحظہ ہو  Tommy Thompsonکی کتاب  The A. B. C of our Alphabet )۔ یہ سب کچھ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لکھائی کی قسم کو بدلنا یا اُس قِسم کے ڈھنگ طریقہِ کا ابتدائی مرحلہ طِے کرنا نہائت مشکل ہوتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ لسانیاتی اصولوں کے تحت بھی رسم الخط میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ ایک مثال سی بات واضح ہو جائے گی۔ انگریزی کی بڑی آکسفورڈ ڈکشنری اور حال ہی میں چَھپنے والا اُس کی چار جِلدوں میں تکملہ (Supplement) میں اصواتیاتی تلفظ(Phonetic pronunciation)  دیا گیا ہے، مگر وَیبسٹر کی تیسری نئی انٹرنَیشنل ڈکشنری میں صوتیائی تلفظ دیا گیا ہے ۔ پنجابی کی ایک لُغت میں تلفظ بغیر " ہجاءِ ثانی" یعنی  A.J. Ellis کے Palaeotype کی مانند تلفظ دکھانے کی کوشش تو کی گئی ہے۔ مگر اردو لُغات میں چہرۂ لفظ دینے کے علاوہ لسانیاتی اصولوں پر لفظ کا تلفظ دینا  کہیں نظر سے نہیں گزرا۔

زندہ زبانیں ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتی ہیں، مگر کسی منظم ادارہ کی سرپرستی کے بغیر توڑ پھوڑ کی باقاعدہ نگرانی نہیں ہو سکتی۔ نتیجہ یہ کہ قِرائَت کی بجائے قِرأَت زیادہ بولا جاتا ہے۔ احسان دانش نے  "مَشعل" کے لفظ کو "مِشعل" کہنا پسند کیا کیونکہ اُنہیں یہی تلفظ پیارا محسوس ہوتا تھا۔  پر " جگہ" کی جمع "جگہائیں" بھی خبروں میں سُننے میں آ جاتی ہے۔ تلفظ میں الف کو دبانے کا مرض تو مِرزا غالب نے بھی بڑی شِدّت سے محسوس کیا تھا۔ مثلا ً مقامات کو مَقَمات بولنا۔ اس کے علاوہ امالہ کو صحیح طور پر نہ بُلانابھی عَیب سمجھا جاتا رہا ہے، مگر لِکھائی میں یہ تنازعہ ابھی تک جاری ہے کہ مثلا ً  لفظ "جُمعہ" کا امالہ آخر کے حرفِ ہاء کو یائے مجہول سے بدل کر لکھنے کی بجائے عَین کے نیچے صرف زیر (جمعہِ) ڈال دینا کافی ہے۔ آمنہ خاتون نے تو یہاں تک مہم چلائی کہ عربی کا کوئی لفظ جب اردو میں عام ہو جائے تو اس کی جمع وغیرہ جہاں تک ہو سکے صرف اردو کے قاعدوں سے بنا کر استعمال کی جائے، مثلاً "عالم" کی جمع "عُلماء" استعمال کرنے سے منع کیا، مگر اس کے اُلٹ حال ہی میں روزنامہ جنگ راولپنڈی مجریہ 13 جولائی 1984ء میں پروفیسر شیر علی کاظمی نے تو یہاں تک تجویز کر دیا کہ اردو قواعد میں "سکُول کی جمع   ز  شامل کر کے "سکُولز" بنانے کا اصول شامل کر لینا چاہئے، مثلا ً  کرکٹ میں اس نے بِیس رنز بنائیں۔ انگریزی زبان کا اثر اردو پر اتنا پڑا کہ ہجاءکرنے میں  "الف بے زبر اَب" کہنے بجائے بچّوں کو " الف زبر بے اَب " پڑھایا جاتا ہے، حالانکہ  اردو کا محاورہ  " رے   واؤ    زبر  رَو  ہو جانا " ہِجا کا صحیح اصول بتا رہا ہے ۔ اسی طرح پہاڑے یاد کرنے میں " برکت دُونی دُونی" کی بجائے بچوں کو  two ones are two کے رنگ پر " دو ایکم دو" سِکھایا جاتا ہے۔ ہماری گِنتی کو انگریزی رنگ پر ڈھالنے کے لئے ایک شخص نے تو روزنامہ جنگ راولپنڈی مجریہ 13 جولائی 1963ء میں یہاں تک تجویز کر دیا تھا کہ مثلاً    forty oneکی طرز پر ہمیں ( اکتالِیس کہنے کی بجائے) "چالِیس ایک" کہنا چاہئے۔ Psychology  کا ترجمہ ذہنیات کی بجائے نفسیات کیا جاتا ہے؛ دیکھو روزنامہ جنگ راولپنڈی مجریہ 25 اپریل 1969ء۔

الف بے کی پوری پٹی ۔  Shahmukhi Alphabet, Punjabi Lesson - 1
پنجابی کس طرح لکھی اور پڑھی جاۓ  Punjabi Shahmukhi Script, How to read and write
مُلتانی - زبان یا بولی   Multani or Saraiki: Dialect or Language
پنجابی زبان کی مُلتانی بولی   
مُلتانی کی مخصوص آوازیں    Sounds of Multani that make it different from other Dialects of Punjabi
پنجابی اصوتیات   Punjabi Phonetics
پنجابی قاعدہ   
پنجابی زبان اور رسم الخط Punjabi Script and Punjabi Language
پنجابی کے کچھ الفاظ کی املاء  Words used more often
پنجابی زبان کی بولیاں   Punjabi Language and Dialect

 Back to Previous Page


مَندی  ہاں  کہ  چنگی   ہاں   بھی  صاحب  تیری  بَندی ہاں
گہلا   لوک جانے  دیوانی میں  رنگ صاحب  دے رَنگی ہاں
ساجن میرا   اَکھّیں  وِچ  وَسدا میں گلئیں  پھِراں نشنگی ہاں
کہے حُسین   فقیر سائیں دا  میں  وَر  چنگے  نال  منگی ہاں


Comments

All Comments
No comments yet



All Comments

*Name:
Email:
Notify me about new comments on this page
Hide my email
*Text:
 
 
Powered by Scriptsmill Comments Script


شبد بھنڈار
Punjabi Poetry
Punjabi Lessons
ماہیا۔ٹپے  

"Punjabi Vocabulary"

Pages

.جرم کی سزا جرم کی نوعیت کے مطابق ہونی چاہئیے


  
Desi Calendar

For better view the web site requires the download of ; 'Roz Urdu Punjabi Nastaleeq Shahmukhi Font.

Recent Comments

الوگڑ دا مطلب ہے، جیہدا کوئی مالک نہ ہووے۔ http://www.punjabiandpunjab.com/Punjabi/Dictionary/Dic-alogaR.html ....... Read more ----admin @ Imran kalyar

تن پوہ 1977 نوں 6 دسمبر سی۔ ....... Read more ----admin @ Shd

3 poh 1977 koi das sakda a us din English date Ki si? ....... Read more ----Shd

[8:25 AM, 8/14/2017] +971 55 709 2860: [8:38 AM, 8/14/2017] +971 55 709 2860: سہاڈی بدقسمتی کہ لوو کہ ....... Read more ----Kamaran Tahir

برتن لوہے دے کدی ٹُٹدے نہیں مالی اپنے باغ نوں کدی پُٹدے نہیں ٹُٹ جاندے نے کئی وار خ ....... Read more ----Hafeez

All Comments





Desi Calendar